تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 96
96 الفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا } ( بنی اسرائیل ) کہ یقینا فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔پس یہ صبح کے وقت کی تلاوت ہر مومن کے لئے گواہ بن رہی ہوں گی۔لیکن کیا صرف پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ہماری دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے اور ہمارے حق میں گواہی دینے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں بلکہ جو تلاوت کی ہے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا میں نے ضمنا پہلے بھی ذکر کیا تھا لیکن تفصیلی حدیث یہ ہے۔آپنے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب في كم يقرا القرآن) تا کہ آہستہ آہستہ جب پڑھو گے ،غور کرو گے سمجھو گے تو گہرائی میں جا کر اس کے مختلف معانی تم پر ظاہر ہوں گے۔لیکن جب انہوں نے کہا کہ میرے پاس وقت بھی ہے اور اس بات کی استعداد بھی رکھتا ہوں کہ زیادہ پڑھ سکوں تو آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے پھر ایک ہفتہ میں ایک دور مکمل کر لیا کرو اس سے زیادہ نہیں۔تو آپ صحابہ کو سمجھانا چاہتے تھے۔کہ صرف تلاوت کر لینا، پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔انسان جلدی جلدی پڑھنا شروع کرے تو دس گیارہ گھنٹے میں پورا قرآن پڑھ سکتا ہے لیکن اس میں سمجھ خاک بھی نہیں آئے گی۔بعض تراویح پڑھنے والے حفاظ اتنا تیز پڑھتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا الفاظ پڑھ رہے ہیں۔جماعت میں تو میرے خیال میں اتنا تیز پڑھنے والا شاید کوئی نہ ہولیکن غیر از جماعت کی مساجد میں تو 18-20 منٹ میں یا زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں ایک پارہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور دس گیارہ رکعت نفل بھی پڑھ لیتے ہیں۔تو اتنی جلدی کیا خاک سمجھ آتی ہوگی؟ تلاوت کرنے کی بھی ہر ایک کی اپنی استعداد ہوتی ہے اور انداز ہوتا ہے۔کوئی واضح الفاظ کے ساتھ زیادہ جلدی بھی پڑھ سکتا ہے۔کچھ زیادہ آرام سے پڑھتے ہیں لیکن ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ تلاوت سمجھ کر کرو۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: