تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 28

28 نے کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت مفسرہ ہوتی تھی۔یعنی ایک ایک حرف کے پڑھنے کی سننے والے کو سمجھ آرہی ہوتی تھی۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الوتر - باب استجاب الترتيل في القراءة حديث نمبر 1463) قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرنی چاہئے پھر حضرت ام سلمہ ہی ایک اور جگہ روایت کرتی ہیں۔آپ کے پڑھنے کا طریق بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کرتے تھے۔آپ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) پڑھ کر توقف فرماتے۔پھر (الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) پڑھتے اور پھر توقف فرماتے ، رکتے۔( مشکوۃ المصابیح کتاب فضائل القرآن الباب الاول الفصل الثانی حدیث نمبر 2205) تو آپ اتنا غور کر رہے ہوتے تھے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ہر ہر لفظ میں معنی پنہاں ہیں اس لئے بڑے ٹھہر ٹھہر کر غور کرتے ہوئے وہاں سے گزرتے تھے۔پھر حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ بنی کریم رات کو کبھی بلند آواز سے اور کبھی آہستہ آواز سے تلاوت کرتے تھے۔کا (سنن ابی داؤد کتاب التطوع۔باب في رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل ) اور یہ بلند آواز بھی اور آہستہ آواز بھی انہیں حدود کے اندر تھی جس طرح کہ اللہ تعالیٰ حکم ہے۔قرآن کریم کی تلاوت خوش الحانی سے کرنی چاہئے پھر ایک روایت میں آتا ہے ، جس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی تلاوت کو کس طرح دیکھتا تھا۔یہ بھی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ کسی چیز کو