آنحضرت ﷺ اور امنِ عالم — Page 19
آنحضرت صلی ا یم اور امن عالم اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی 2022 پر بات نہیں ہے اور یہ نقص اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں کی نظر ہے۔اس ہستی پر نہیں ہے جو سلام ہے اور سلامتی دینے والی ہستی وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں تک ہمارا فائدہ ہے ہم امن کے نعرے لگانے عمل کریں گے مگر جب ہمارے مفاد کے خلاف بات آئے گی تو ہم رڈ کر دیں گے۔ہمارے دشمن کی کوئی مدد کرے اور اسے اسلحہ دے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں لیکن اگر ہم کسی ہے کو اسلحہ دیں چاہے وہ ظلم کرنے پر ہی استعمال ہو رہا ہو تو یہ جائز ہے۔اگر یہ سوچ ہو تو کس طرح حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے؟ پس حقیقی امن دنیا میں لانے کے لیے یہی عقیدہ اور اس عمل کار گر ہو گا کہ دنیا کا ایک خدا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ سب پیکر لوگ امن میں رہیں۔اور جب یہ عقیدہ ہو گا، اس پر عمل ہو گا تو پھر ہی انسان کی خواہشات خود غرضی سے بالا ہوں گی بلکہ دنیا عام نفع پہنچانے والی ہوں گی۔اور جب یہ ہو گا تو ہماری سوچوں اور امن و سلامتی قائم کرنے کے اور ہی معیار ہوں گے۔ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ فلاں بات کا ہمیں فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں بلکہ 19