خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 521
521 نظام وصیت کے متعلق تحریکات نظام وصیت کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی منشاء اور بشارات کے مطابق 1905ء میں نظام وصیت کی بنیاد ڈالی اور رسالہ الوصیت میں نظام خلافت کے قیام کی خبر دیتے ہوئے یہ تحریک فرمائی کہ احباب اپنے اندر خاص روحانی تبدیلی پیدا کر کے اپنے مالوں کا کم از کم 1/10 حصہ دین کی راہ میں پیش کر کے خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کے وارث بنیں۔حضور نے فرمایا:۔مجھے ایک جگہ دکھلا دی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے۔تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں“۔صلى الله پھر فرماتے ہیں کہ : میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنادے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خوابگاہ ہو جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ علیہ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔امین یارب العالمین۔1905ء سے 2004 ء تک قریباً 99 سال میں 38 ہزار احمدی نظام وصیت میں شامل ہوئے۔اس نظام میں شمولیت کے لئے خلفاء سلسلہ کی طرف سے کئی بار یاد دہانی کرائی گئی اور اس نظام میں دنیا کے 75 ممالک کے احمدی شامل ہوئے اور 12 ممالک میں 15 مقبرہ ہائے موصیان کا قیام بھی عمل میں آیا۔بھر پور تحریک کا آغاز مگر اس نظام میں شمولیت کے لئے ایک بھر پور تحریک چلانا خلافت خامسہ میں مقدر تھا۔چنانچہ