خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 489
489 ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا و ثبت اقدامنا وانصرنا على القوم الكفرين۔اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے معاملہ میں ہماری زیادتیاں بھی۔اور ہمیں ثابت قدم رکھا اور ہمیں حق کے منکروں پر غلبہ عطا فرما۔اللهم انا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم اے اللہ ! ہم دشمنوں کے مقابلہ میں تجھے اپنی ڈھال بناتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔اللهم اهدقومي فانهم لا يعلمون۔اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔14 فروری 1986ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے مندرجہ ذیل دعا کے مفہوم کو سمجھنے اور پڑھنے کی تلقین فرمائی:۔ربنا هب لنا من أزواجنا وذريتنا قرة أعين واجعلنا للمتقين اماما۔حضور نے منصب امامت پر فائز ہونے پر جماعت کے نام پہلے تحریری پیغام میں اہل فلسطین کے لئے خاص طور پر دعاؤں کی تحریک کی۔اس کے بعد متعدد مواقع پر عالم عرب کے لئے عمومی دعاؤں کی تلقین فرمائی۔حضور نے 27 مارچ 1987ء کو جماعت کے تمام افراد کو یہ دعا یاد کرنے اور اس کا ورد کرنے کی تحریک فرمائی:۔اللهم انى اسئلك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك احب الى من نفسى ومالى واهلى و من الماء البارد (ضمیمہ ماہنامہ خالد اپریل 1987 ء ) حضور نے 1999ء میں دعاؤں کے موضوع پر خطبات کا سلسلہ جاری کیا اور قرآن ، رسول کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متعدد دعاؤں کے مطالب اور مفاہیم بیان کرنے کے بعد انہیں پڑھنے کی تلقین فرمائی۔