خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 387
387 فرمایا کہ سیر کے بعد مضمون نویسی کا مقابلہ ہوگا جس میں پوزیشن حاصل کرنے والے احباب میں انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔الفضل 17 اپریل 1972 ء ) حضور کے ارشاد کی تعمیل میں 12 مئی 1972ء کو سیر کا مقابلہ ہوا اور مضمون نویسی پر انعامات بھی دیئے گئے۔ربوہ میں سیر گاہوں کی تیاری کے لئے وقار عمل کا سلسلہ 10 مارچ 1972 ء سے شروع ہوا اور شجر کاری کا منصوبہ بنایا گیا۔حضور نے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو تلقین فرمائی کہ وہ حسب ضرورت کدالیں ، ٹوکریاں وغیرہ خرید لیں۔حضور نے خطبہ جمعہ 17مارچ 1972ء میں فرمایا:۔پوری جدوجہد سے تم ربوہ کی شکل اس نیت سے بدل دو کہ باہر سے آنے والے دوست اسے دیکھ کر یہ کہہ سکیں کہ صفائی اور نفاست کے لحاظ سے اسلام نے کسی شہر کا جو معیار مقرر کیا ہے۔ربوہ اس پر پورا اترتا ہے اور ساتھ ہی یہ نیت بھی ہونی چاہئے کہ ہم اپنی صحتوں کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد ہونے والی بڑی عظیم اور بڑی بھاری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں۔(خطبات ناصر جلد 4 ص 118) شجر کاری کی تحریک خطبہ جمعہ 24 نومبر 1972 ء میں حضور نے فرمایا کہ ہمیں ربوہ میں 15, 20 ہزار درخت لگانے چاہئیں جس سے شہر کی شکل بدل جائے گی۔ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری اطفال پر ہوگی۔نیز آپ نے درختوں کو کاٹنے کی سختی سے ممانعت فرمائی۔آپ نے فرمایا میرے دل میں یہ شدید خواہش ہے کہ ہمارار بوہ ایک باغ بن جانا چاہئے۔(الفضل 24 جنوری 1973ء) نتزئین وصفائی حضور نے ربوہ کی صفائی اور تزئین کے لئے کئی تحریکات فرمائیں۔آپ کا یہ جملہ زبان زدعام ہے۔ربوہ کو غریب دلہن کی طرح سجا دو۔خطبہ جمعہ یکم نومبر 1968ء میں آپ نے صفائی کے ضمن میں دو امور کی طرف توجہ دلائی۔