خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 21
21 نیز فرمایا:۔اس مدرسہ کی بنا سے غرض یہ تھی کہ دینی خدمت کے لئے لوگ تیار ہو جاویں۔یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے۔پہلے گزر جاتے ہیں، دوسرے جانشین ہوں۔اگر دوسرے جانشین نہ ہوں تو قوم کے ہلاک ہونے کی جڑ ہے۔مولوی عبدالکریم اور دوسرے مولوی فوت ہو گئے اور جو فوت ہوئے ہیں ان کا قائم مقام کوئی نہیں۔دوسری طرف ہزار ہا روپیہ جو مدرسہ کے لئے لیا جاتا ہے پھر اس سے فائدہ کیا ؟ جب کوئی تیار ہو جاتا ہے تو دنیا کی فکر میں لگ جاتا ہے اصل غرض مفقود ہے۔میں جانتا ہوں جب تک تبدیلی نہ ہوگی کچھ نہ ہوگا“۔( ملفوظات جلد چہارم ص 584) جس تبدیلی کی طرف حضور نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا وہ دراصل خالص خدمت دین کے لئے وقف ہو جانے سے متعلق تھی۔جو طلباء مدرسہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہوتے ان کے لئے لازم نہ تھا کہ وہ جماعت کے لئے زندگی وقف بھی کریں۔خدمت دین کی غرض کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کے ارشاد کے مطابق 1906ء میں ایک الگ کلاس کا اجراء کیا گیا۔جسے شاخ دینیات کا نام دیا گیا۔مگر سرمایہ کی کمی کی وجہ سے یہ کلاس بہت ناقص حالت میں تھی۔پھر آپ نے بڑے زور سے یہ تحریک فرمائی کہ حضرت مسیح موعود کی یاد میں اعلی پیمانہ پر ایک دینی مدرسہ قائم کیا جائے جس میں واعظین اور مبلغین تیار کئے جائیں۔یہ تحریک ایک وسیع انتظام اور کثیر اخراجات کا تقاضا کرتی تھی۔چنانچہ آپ کی خواہش اور ارشادات کے مطابق جماعت کے عمائدین نے یہ تحریک پوری جماعت کے سامنے رکھی اور بتایا کہ یہ مدرسہ دنیا میں اشاعت حق کا ایک بھاری ذریعہ ہوگا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان یادگار بھی۔سواس مدرسہ کے لئے عمدہ عمارت، اعلیٰ درجہ کے سٹاف، طلباء کے لئے وظائف اور بہترین لائبریری کی ضرورت ہے۔لہذا احباب مالی قربانی میں ذوق وشوق سے حصہ لیں۔لکھا۔بدر 18 جون 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگار“ کے عنوان کے تحت ہے۔حضرت خلیفہ مسیح موعود یہ چاہتے ہیں کہ حضرت موعود مبرور کی یادگار میں اعلیٰ پیمانہ پر ایک دینی