خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 22
22 مدرسہ قائم کیا جاوے جس میں واعظین اور مبلغین تیار کئے جاویں۔لائبریری کے متعلق حضرت خلیفہ مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ہم اپنی کتابوں کا ایک ذخیرہ کل ہی دے دیں گے۔انجمن تفخیذ الاذہان بھی اپنی لائبریری کو دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔سٹاف یعنی اس مدرسہ کے مدرسین کے لئے ہماری یہ تجویز ہے کہ جماعت کے قابل ترین آدمیوں کو اس سب سے اہم کام پر لگایا جائے لیکن اس مدرسہ کے اخراجات اور طلباء کے وظائف کے لئے ایک مستقل ماہوار خرچ کی ضرورت ہے جو آہستہ آہستہ موجودہ ہائی سکول کے برابر پہنچ رہے گا بلکہ اگر اس مدرسہ کو کالج کے درجہ تک پہنچایا جائے اور مختلف زبانوں کے سکھانے کا انتظام کیا جائے تو کسی صورت میں بھی کالج کے خرچ سے کم اس کا خرچ نہ ہوگا مگر سر دست کام شروع کرنے کے لئے قریباً دوصد روپے ماہوار تک ( خرچ ہوگا۔ناقل ) جو چار پانچ سال میں سات آٹھ سوروپے ماہوار تک پہنچ جائے گا اور دوسری طرف اس کی عمارت کے لئے روپیہ درکار ہوگا۔یہ وہ تجاویز ہیں جواب ہم حضرت مولوی صاحب کے ارشاد سے قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں:۔یہ مدرسہ اگر خدا نے چاہا تو دنیا میں اسلام کی اشاعت کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک یادگار ہوگی۔پس احباب کو چاہئے کہ اس مقدس اور اہم کام کے لئے یکمشت اور مستقل چندے حسب استطاعت دیں اور احمدیہ انجمنیں اپنی متفقہ کوششوں سے اس تجویز کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔( بدر 18 جون 1908ء ص 4 کالم 1) احباب جماعت نے اس تحریک پر حسب استطاعت لبیک کہا اور نا مساعد حالات کے باوجود یکم مارچ 1909ء کو اس درسگاہ کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام مدرسہ احمدیہ تجویز کیا گیا اور اولین ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب قرار پائے۔اس درسگاہ کے با قاعدہ قواعد وضوابط بنائے گئے اور سات سالوں پر مشتمل ایک نصاب ترتیب دیا گیا۔اس وقت تک مدرسہ احمدیہ کے لئے کسی الگ بورڈنگ کا انتظام نہ تھا اور اس کی کلاسیں مدرسہ تعلیم الاسلام میں ہی لگتی رہیں۔1910ء میں حضرت خلیفہ مسیح الاول نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو افسر مدرسہ یہ مقرر فرمایا اور جملہ انتظامات آپ کے ذمے لگا دیئے۔آپ ستمبر 1910 ء سے مارچ 1914 ء تک