خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 248 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 248

248 لجنہ اماءاللہ کی تنظیم اپنی نوعیت اور ہیئت کے اعتبار سے ایک مثالی تنظیم ہے جس نے اپنی کار کردگی کا سکہ غیروں پر بھی بٹھا رکھا ہے۔مولوی عبدالمجید صاحب قرشی ایڈیٹر اخبار تنظیم امرتسر نے لکھا:۔لجنہ اماءاللہ قادیان احمد یہ خواتین کی انجمن کا نام ہے۔اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں اور اس طرح پر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے اس انجمن نے تمام احمد یہ خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے۔عورتوں کا ایمان مردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے۔عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں۔لجنہ اماءاللہ کی جس قدر کارگزاریاں اخبارات میں چھپ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پُر جوش ہوں گی اور احمدی عورتیں اس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کا مرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونا لازمی تھا۔تاریخ احمدیت جلد 4 ص310) مجلس ناصرات الاحمدیہ کا قیام: فروری 1939ء میں احمدی بچیوں کے لئے ” مجلس ناصرات الاحمدیہ کے نام سے ایک انجمن کا قیام عمل میں آیا جس کی صدر محترم استانی میمونہ صوفی صاحبہ سیکرٹری صاحبزادی امۃ الرشید صاحبه ( بنت حضرت خلیفہ المسیح الثانی) اور اسٹنٹ سیکرٹری طاہرہ بیگم صاحبہ مقرر ہوئیں۔( الفضل 5 جولائی 1939 ء ) مجلس ناصرات الاحمدیہ کا قیام صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ کی تحریک پر ہوا۔چنانچہ صاحبزادی صاحبہ کا بیان ہے کہ: ” جب میں دینیات کلاس میں پڑھتی تھی۔میرے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ جس طرح خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم ہے۔اسی طرح لڑکیوں کے لئے بھی کوئی مجلس ہونی چاہئے۔چنانچہ مکرم و محترم ملک سیف الرحمن صاحب کی بیگم صاحبہ اور مکرم ومحترم حافظ بشیر الدین صاحب کی بیگم صاحبہ اور اسی طرح اپنی کلاس کی بعض اور بہنوں سے اس خواہش کا اظہار کیا اور ہم سب نے مل کر لڑکیوں کی ایک انجمن بنائی جس کا نام حضرت اقدس کی منظوری سے ناصرات الاحمد یہ رکھا گیا۔