خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 249 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 249

249 شروع میں تو اس کے اجلاس بھی ہمارے سکول میں ہی ہوتے رہے اور سکول کی طالبات ہی اس کی ممبر رہیں۔لیکن میری شادی کے بعد جب میں سندھ چلی گئی تو اس مجلس کا انتظام لجنہ اماءاللہ نے سنبھال لیا اور اس کے زیر انتظام اس مجلس کے امور سرانجام پاتے رہے۔یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ احمدی عورتوں کی عمومی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لئے حضور کی دیگر تحریکات کا ذکر کر دیا جائے۔تعلیم نسواں کی تحریک: حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو آغاز خلافت ہی سے احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی و بہبود کا خیال تھا۔مجلس مشاورت 1928ء کے موقعہ پر حضور نے نمائندگان جماعت کے سامنے تعلیم نسواں کے لئے خاص تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔” میرے نزدیک عورتوں کی تعلیم ایسا اہم سوال ہے کہ کم از کم میں تو اس پر غور کرتے وقت حیران رہ جاتا ہوں ایک طرف اس بات کی اہمیت اتنی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ دنیا میں جو تغیرات ہورہے ہیں یا آئندہ ہوں گے جن کی قرآن سے خبر معلوم ہوتی ہے ان کی وجہ سے وہ خیال مٹ رہا ہے جو عورت کے متعلق تھا کہ عورت شغل کے طور پر پیدا کی گئی ہے۔۔۔۔دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت کا میدان عمل مرد کے میدان سے بالکل علیحدہ ہے۔۔۔۔۔۔پس ایک طرف عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اور دوسری طرف یہ حالت کہ ان کا میدان عمل جدا گانہ ہے یہ ایسے امور ہیں جن پر غور کرتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دوسروں کا نقال نہیں بنایا بلکہ دنیا کے لئے راہنما بنایا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم دنیا کی راہنمائی کریں نہ یہ کہ دوسروں کی نقل کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم غور کریں عورتوں کو کیسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ہمیں ہر قدم پر سوچنا اور احتیاط سے کام لینا چاہئے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہئے کرنا چاہئے اور ضرور کرنا چاہئے مگر غور اور فکر سے کام لینا چاہئے۔اب تک ہماری طرف سے سستی ہوئی ہے ہمیں اب سے بہت پہلے غور کرنا چاہئے تھا اور اس کے لئے پروگرام تیار کرنا چاہئے تھا گو وہ پروگرام مکمل نہ ہوتا اور مکمل تو یکلخت قرآن شریف بھی نہیں ہو گیا تھا پس یکلخت تو قدم او پر نہیں جاسکتا مگر قدم رکھنا ضرور چاہئے تھا۔میں اس بات کی زیادہ ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ پہلے اس بات پر غور ہونا چاہئے کہ