خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 246 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 246

246 ما ء اللہ کی بنیاد رکھی۔جس کی پہلی سیکرٹری حضرت امتہ الحئی صاحب تھیں۔جب اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا تو لجنہ کی ممبرات نے حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم کی خدمت میں درخواست کی کہ اس کی صدارت قبول فرمائیں اور غالباً پہلا اجلاس آپ ہی کی صدارت میں ہوا تھا۔لیکن آپ نے پہلے اجلاس ہی میں حضرت ام ناصر کو اپنی جگہ بٹھا کر صدارت کے لئے نامزد فر ما دیا۔لجنہ اماءاللہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے 15 دسمبر 1922ء کو اپنے قلم سے قادیان کی مستورات کے نام ایک 17 نکاتی مضمون رقم کیا۔جس میں عورتوں کو دینی تعلیم و تربیت کے لئے ایک مجلس کے قیام کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جو عورتیں اس سے متفق ہوں وہ مجھے اطلاع دیں۔اس ابتدائی تحریک پر ( جو محض رضا کارانہ رنگ کی تھی ) قادیان کی تیرہ خواتین نے دستخط کئے۔حضور کے فرمان پر 25 دسمبر 1922ء کو یہ دستخط کرنے والی خواتین حضرت اماں جان کے گھر میں جمع ہوئیں۔حضور نے نماز ظہر کے بعد ایک مختصر تقریر فرمائی اور لجنہ کا قیام عمل میں آیا۔اس تقریر میں حضور نے لجنات کے سپر دجلسہ مستوارت کا انتظام کر کے کئی مشورے دیئے اور نصائح فرمائیں۔اس اجلاس اول کے بعد لجنہ اماءاللہ کے مفصل قواعد رسالہ تادیب النساء میں (جو قادیان سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی ادارت میں شائع ہوتا تھا ) شائع کر دیئے گئے اور اس طرح با قاعدہ سرگرمیوں کا آغا ز ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے لجنہ کے اغراض و مقاصد جلد سے جلد پورا کرنے کے لئے اور احمدی مستورات کی اصلاح و تنظیم کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ بلجنات کے ہفتہ وار اجلاس جاری کئے اور فروری اور مارچ 1923ء کے تین اجلاسوں میں نہایت جامعیت کے ساتھ دینی اور دنیاوی علوم کی تفصیلات بیان فرمائیں۔اس کے ساتھ ساتھ حضور نے خدمت دین کا عملی جوش پیدا کرنے کے لئے تعمیر بیت برلن کی ذمہ داری بھی احمدی مستورات پر ڈالی اور اس کے لئے چندہ کی فراہمی کا کام لجنہ اماءاللہ کے سپر دفرمایا۔دو سال بعد حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی نے خواتین میں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے 17 مارچ 1925ء کو مدرستہ الخواتین جاری فرمایا۔جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت سید ولی اللہ