خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 236
236 قیام عمل میں لایا گیا ہے جسے مدرستہ الظفر کا نام دیا گیا ہے۔1996ء میں عرصہ تعلیم 2 سال کیا گیا مگر 2005 ء سے اس کا دورانیہ 3 سال کر دیا گیا ہے۔اس وقت بھی 122 کے قریب طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کو ہوٹل کی سہولت بھی میسر ہے پرنسپل کے علاوہ 13 اساتذہ تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ایک معلم کا حلقہ پانچ میل کا ہوتا ہے وہ اپنے حلقہ میں تعلیم وتربیت اور اصلاح وارشاد کا ذمہ دار ہوتا ہے وہ اپنے حلقہ کا دورہ کر کے معلوم کرتا ہے کہ اس کے حلقہ میں کل کتنے دیہات ہیں اور ان میں کتنی احمدی جماعتیں ہیں اور اس کے حلقہ میں کل کتنے احمدی احباب ہیں۔معلم اپنے ماحول کا ایک نقشہ بنا کر دفتر کو بھجواتا ہے جس میں وہ اپنے جائزہ کے مطابق اعداد و شمار کا اندراج کرتا ہے اور دفتر کو ابتدائی رپورٹ بھجواتا ہے کہ اس وقت مقامی جماعت کی تعلیم و تربیت کا یہ حال ہے اتنے افراد قاعدہ یسر نالقرآن جانتے ہیں اتنے افراد قرآن مجید ناظرہ اور باترجمہ جانتے ہیں اور اتنے افراد نماز با جماعت ادا کرنے کے عادی ہیں اور تلاوت قرآن مجید کے عادی ہیں۔اس گاؤں میں احمدیت کب یعنی کس سن میں آئی اور کون کون سے فرقے پائے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔پھر اس کی روشنی میں تعلیم وتربیت کا نظام قائم کرتا ہے۔ان معلمین کے ذریعہ صرف خلافت ثانیہ میں 3827 افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔مالی نظام آغاز میں وقف جدید کی تحریک صرف پاکستانی اور بھارتی احمد یوں کے لئے تھی اور باہر کے ممالک سے اگر کوئی اپنی مرضی سے حصہ لینا چاہتا تو لے سکتا تھا 5 198 ء میں حضرت خلیفۃ المسح الرابع نے وقف جدید کی مالی قربانی کی تحریک کو ساری دنیا پر پھیلا دیا۔تا کہ ہندوستان میں بھی وقف جدید کے نظام کو فعال کیا جا سکے۔وقف جدید کا سال یکم جنوری تا 31 دسمبر شمار کیا جاتا ہے۔احباب جماعت اپنی استطاعت کے مطابق ہر سال کے شروع میں چندہ وقف جدید کے دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔کہ دوران سال ہم اتنا چندہ ادا کریں گے۔چندہ وقف جدید کی درج ذیل مدات ہیں۔