خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 8
8 یہ تو ظاہر ہے کہ نظام گورنمنٹ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہر ہفتہ میں دو دن کی تعطیل ہو اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اتوار شاہ وقت کے مذہب کے لحاظ سے تعطیل کا ضروری دن ہے۔پس کوئی ایسی تجویز گورنمنٹ کے سامنے پیش کرنی چاہئے۔جس سے نظام گورنمنٹ میں بھی کوئی مشکلات پیش نہ آویں اور اہل اسلام کو یہ آزادی بھی مل جائے۔اس کی آسان راہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے وقت یا تو سب دفاتر اور عدالتیں ، سکول، کالج وغیرہ دو گھنٹے کے لئے بند ہو جاویں۔یا کم از کم اتنی دیر کے لئے مسلمان ملازمین اور مسلمان طلباء کو اجازت ہو کہ وہ نماز جمعہ ادا کر سکیں اور اس کے متعلق جملہ دفاتر و جملہ محکموں میں گورنمنٹ کی طرف سے سرکلر ہو جائے۔۔ان وجوہات مذکورہ بالا کی بنا پر ہم نے ایک میموریل تیار کیا ہے۔جوحضور وائسرائے ہند کی خدمت میں بھیجا جاوے گا۔لیکن چونکہ جس امر کی اس میموریل میں درخواست کی گئی ہے۔وہ جملہ اہل اسلام کا مشترک کام ہے۔اس لئے قبل اس کے کہ یہ میموریل حضور وائسرائے کی خدمت میں بھیجا جاوے۔ہم نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ اس کا خلاصہ مسلمان پبلک اور مسلمان اخبارات اور انجمنوں کے سامنے پیش کیا جاوے۔تا کہ وہ سب اس پر اپنی اتفاق رائے کا اظہار بذریعہ ریزولیوشنوں و تحریرات وغیرہ کے کر کے گورنمنٹ پر اس سخت ضرورت کو ظاہر کریں۔تا کہ اس مبارک موقعہ پر یہ آزادی اہل اسلام کے اتفاق سے جیسی کہ ضرورت متفقہ ہے۔یہ درخواست حضور وائسرائے ہند کی خدمت میں پیش ہو اور یہ غرض نہیں کہ ہم ہی اس کو پیش کرنے والے ہوں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے۔اس لئے ہم نے اسے پیش کر دیا ہے۔اگر کوئی انجمن یا جماعت ایسی ہو۔جو صرف اس وجہ سے اس کے ساتھ اتفاق نہ کرے کہ یہ میموریل ہماری طرف سے کیوں پیش ہوتا ہے۔تو ہم بڑی خوشی سے اپنے میموریل کو گورنمنٹ کی خدمت میں نہیں بھیجیں گے۔بشرطیکہ اس کے بھیجنے کا اور کوئی مناسب انتظام کر لیا جاوے“۔المعلن نورالدین (خلية أسيح الموعود ) (خلیفه قادیان ضلع گورداسپور یکم جولائی 1911ء اس اعلان کا ہر مکتبہ فکر کے مسلمانوں نے پُر جوش خیر مقدم کیا اور مسلمان مقدس اسلامی شعار کے تحفظ کے لئے پھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔چنانچہ مسلم پریس نے اس کے حق میں پر زور آواز