خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 9
0 اٹھائی اور پُر جوش الفاظ میں ادار یے لکھے۔اخبار زمیندار نے لکھا:۔اس ضروری اور اہم تحریک کی سعادت مولانا نورالدین صاحب کے حصہ میں آئی ہے جنہوں نے قادیانی جماعت کے پیشوا کی حیثیت سے تمام مسلمانان ہند کی توجہ کو اس طرف مبذول کیا ہے۔۔۔اور ہمیں یقین ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا۔جو ایسے میموریل کے گزرانے کو بہ نگاہ احسان نہ دیکھئے“۔اخبارا اہلحدیث امرتسر نے لکھا:۔حکیم صاحب نے ایک اشتہار سب مسلمانوں کی اتفاق رائے اور تائید کے لئے اس امر کے متعلق دیا ہے کہ دربار تاج پوشی دہلی کے موقعہ پر گورنمنٹ سے ایک میموریل کے ذریعہ جمعہ کی نماز کے لئے 2 گھنٹہ کی تعطیل حاصل کی جائے اور بذریعہ سرکاری سرکلر سرکاری دفاتر ، سکولوں اور کالجوں میں یہ تعطیل ہونی چاہئے۔حکیم صاحب کی رائے سے ہم متفق ہیں۔تمام مسلمانوں کو اس امر کے لئے میموریل تیار کر کے وائسرائے کی خدمت میں بھیجنا چاہئے۔مگر میموریل مسلم لیگ کی معرفت بھیجنا چاہئے۔افشاں نے لکھا:۔”اس میں شک نہیں کہ یہ تحریک نہایت مناسب اور ضروری ہے کہ کسی مسلمان کو اس قسم کی ضرورت سے انکار نہیں ہوسکتا۔مسلمان اخبارات اور دوسرے عام مسلمانوں نے عموماً اور علی گڑھ تحریک سے وابستہ لوگوں نے خصوصاً یہ رائے دی کہ یہ میموریل دربارتاج پوشی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی اس سے اتفاق فرمایا اور احمدی جماعتوں کو اس سے مطلع کر دیا گیا کہ وہ اس معاملہ میں مسلم لیگ کی ہر طرح تائید و معاونت کریں۔مسلم لیگ کے ہاتھ میں لے لینے کے بعد سب سے زیادہ جس شخص نے اس کی تائید میں منتظم کوشش کی وہ شمس العلماء مولانا شبلی تھے جنہوں نے اس غرض کے لئے چندہ جمع کیا۔انگریزی میں میموریل لکھوائے۔مسلمانوں کے دستخط کروائے اور ندوۃ العلماء کے اجلاس منعقدہ 8,7,6 را پریل 1912ء میں ریزولیوشن پیش کر کے اس تحریک کی تائید میں ایک مختصر اور پر دلائل تقریر فرمائی۔اس