خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 174
174 ان کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد دوسرا سلسلہ (1) براہین احمدیہ پہلے چار حصے۔(2) سرمہ چشم آریہ۔(3) آئینہ کمالات اسلام۔(4) اسلامی اصول کی فلاسفی اور چشمہ معرفت۔اور وقت ملے تو باقی جو حضرت مسیح موعود کی دوسری کتابیں ہیں وہ بھی پڑھیں۔براہین احمدیہ حصہ پنجم اور حقیقۃ الوحی اس کے ساتھ ملحوظ رہے۔اگر خود تحقیق کی فرصت نہ ہو۔تو حقیقۃ النبوۃ کا مطالعہ کیا جاوے مگر یہ یا درکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس کی صرف کتب کا مطالعہ کافی نہیں۔اس سے محض علمی رنگ کامل ہوتا ہے۔ایک اور چیز ہے۔جس کے بغیر حضرت اقدس کی بعثت سے انسان پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اور وہ ان ڈائریوں کا مطالعہ ہے۔جو وقتاً فوقتاً اخباروں میں چھپتی رہی ہیں ان کا علمی حصہ ایسا یقینی نہیں۔جیسے حضرت اقدس کی کتب ہیں۔کیونکہ ڈائری نویس بعض وقت الفاظ پوری طرح یاد نہیں رکھ سکتا لیکن ان سے دو باتوں کا پتہ لگتا ہے۔ایک یہ کہ حضرت اقدس اپنی بعثت کا مطلب کیا سمجھے تھے اور اسے پورا کرنے کے لئے کس رنگ میں کوشش کرتے رہے۔دوسرے یہ کہ جن لوگوں کے سامنے حضور کا دعوے پیش ہوا۔اور اسے انہوں نے قبول کیا۔اور سالہا سال تک آپ کے ساتھ رہے یا کثرت سے آپ کی ملاقات کرتے رہے۔انہوں نے حضور کے کلام سے کیا سمجھا اور آپ کے ساتھ کس رنگ میں معاملہ کرتے تھے۔ان دونوں باتوں کے جاننے کے بغیر انسان احمدیت کے مغز کو نہیں پاسکتا۔الفضل 9 دسمبر 1920 ء ص 9,8 ) کتب کا عظیم مقام: سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت 1925ء پر یہ اعلان فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔محمد ﷺ کا بروز ہو کر آئے تھے۔اس لئے آپ کے قلم سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ دنیا کی ساری کتابوں اور تحریروں سے بیش قیمت ہے اور اگر کبھی یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کی ایک سطر محفوظ رکھی جائے یا سلسلہ کے سارے مصنفین کی کتابیں؟ تو میں کہوں گا آپ کی ایک سطر کے مقابلہ میں یہ ساری کتابیں مٹی کا تیل ڈال کر جلا دینا گوارا کروں گا۔مگر اس سطر کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی انتہائی کوشش صرف کر دوں گا“۔رپورٹ مجلس مشاورت 1925 ء ص 39)