خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 161 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 161

161 اس توسیع کی نگرانی کا کام حضور کی خاص ہدایت کے تحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے انجام دیا اور عملی نگرانی سید سردار حسین شاہ صاحب اوورسیئر نے کی۔مسجد مبارک کی نئی توسیع عملاً دسمبر 1944 ء ہی میں مکمل ہو چکی تھی اور اسی لئے حضور نے اس جدید حصہ میں نماز کا آغا ز فرما دیا۔مگر اس کی تکمیل کی بعض ضمنی تعمیرات 1945 ء کے شروع تک جارہی رہیں۔(الفضل 26 مارچ 1945ء) قیام مساجد کی تحریک حضور نے 27 دسمبر 1944 ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا:۔اس کے بعد میں مساجد کی تحریک کا ذکر کرتا ہوں میں نے اس سال یہ تحریک کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔ام طاہر احمد مرحومہ کی وفات کے بعد میں نے مسجد مبارک کی توسیع کی تحریک کی تھی اور احباب نے دیکھ لیا ہوگا کہ اب کیسی شاندار مسجد بن چکی ہے۔پہلے تو اندازہ تھا کہ اس پر 12, 13 ہزار روپیہ خرچ آئے گا اور میرا یہ بھی ارادہ تھا کہ بیرونی دوستوں کو بھی اس میں حصہ لینے کا موقع دوں گا۔مگر میں نے عصر کی نماز کے بعد یہ تحریک کی کہ میں چاہتا ہوں اس مسجد کو وسیع کیا جائے اور عشاء کی نماز تک سولہ ہزار کی بجائے قادیان کی جماعت نے ہی 24 ہزار روپیہ جمع کر دیا۔اس تحریک کے نتیجے میں مسجد مبارک پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور ابھی بعض اور سامان بھی اس کی وسعت کے ہیں اور خدا تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی وسیع ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اس امر کی ضرورت ہے کہ مسجد اقصیٰ کو وسیع کیا جائے۔چند ہی سال ہوئے ہم نے اس مسجد کو بڑھایا تھا۔شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور نے مہربانی کر کے اپنا مکان انجمن کے پاس فروخت کر دیا جسے مسجد میں شامل کر لیا گیا۔اب وہ مسجد بھی تنگ ہو گئی ہے۔دوسری طرف باہر کے دوستوں کی طرف سے میرے پاس یہ شکایت پہنچتی ہے کہ مسجد مبارک کے چندہ کی تحریک میں انہیں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا اب اگر مسجد اقصیٰ میں توسیع کی تحریک کی گئی تو باہر کے دوستوں کو ضرور اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا مگر ابھی اس تحریک کا موقع نہیں۔اگر اس مسجد کو بڑھایا گیا تو میرا خیال ہے اس پر پچاس ہزار روپیہ بلکہ ممکن ہے ایک لاکھ روپیہ خرچ ہو۔اب جن عمارات کو اس میں شامل کر کے اسے وسعت دی جاسکتی ہے وہ بہت قیمتی جائیدادیں ہیں۔اس لئے اسے وسیع کرنے پر کافی خرچ آئے گا اور جب اس کا