خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 162 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 162

162 موقع آئے گا میں تحریک کر دوں گا اور باہر کی جماعتوں کو اس میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔اس سال میں نے یہ تحریک بھی کی تھی کہ ہندوستان کے سات اہم مقامات پر مساجد تعمیر کرنا چاہئیں یعنی پشاور، لاہور، کراچی، دہلی، بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں اور یہ تحریک بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہورہی ہے۔دہلی کے دوستوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور سب نے ایک ایک ماہ کی آمد چندہ میں دی اور اس طرح اس مد میں تمیں ہزار روپیہ کے وعدے ہو چکے ہیں اور کچھ روپیہ امانت فنڈ سے دے دیا گیا ہے۔دو کنال زمین خرید لی گئی ہے جس کی قیمت پچاس ہزار روپیہ ہے یہ نواب پٹواری کی جائیداد ہے۔ستر ہزار روپیہ عمارت کی تعمیر پر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔یہ جگہ جو خریدی گئی ہے یہاں پہلے عیسائیوں کا مشن بنا تھا۔مجھے اس سلسلہ میں ایک بات یاد آئی جس سے بہت لطف آیا۔قریباً تمہیں سال پہلے مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ہائی سکول اور بورڈنگ کی عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ ہم تو قادیان سے جار ہے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ان کی یہ بات تو خدا تعالیٰ نے غلط ثابت کر دی اور ہمیں توفیق دی کہ دہلی میں عین اس مقام پر ہم مسجد بنارہے ہیں جہاں سب سے پہلے عیسائیوں نے اپنا مشن قائم کیا تھا اور اس طرح بجائے اس کے کہ عیسائی ہماری عمارتوں پر قبضہ کر سکتے ہم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جگہ دے دی جہاں انہوں نے پہلے اپنا مشن قائم کیا۔امید ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ میں وہاں ایک مسجد اور ایک ہال تعمیر ہو جائے گا۔میرا تو اندازہ تھا کہ کم سے کم سوالا کھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہوگا مگر دہلی کے دوستوں نے بتایا ہے کہ بعض تجاویز ایسی ہیں کہ انشاء اللہ انہیں سامان ستا مل سکے گا اور اس طرح بہت جلد وہاں مسجد ، ہال اور ایک مہمان خانہ تعمیر ہو سکے گا اور ہندوستان کے سیاسی مرکز میں ہمارا تبلیغی مرکز قائم ہو جائے گا۔دوسری جماعت جس نے جماعت دہلی سے بھی بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیا ہے وہ کلکتہ کی جماعت ہے۔ابھی پانچ سات سال کی بات ہے کہ کلکتہ کی جماعت کا چندہ دو چار ہزار روپیہ سے زیادہ نہ ہوتا تھا مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہوا ہے کہ کچھ نئے آدمی وہاں گئے اور جو پہلے سے وہاں موجود تھے ان میں سے بعض کی حالت سدھر گئی اور اب یہ حالت ہے کہ اس جماعت نے 66 ہزار