خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 99
99 کام پر مقرر کیا ہے اس کے سامنے کچھ بھی نہیں وہ بڑے خزانہ والا ہے۔وہ خود آپ لوگوں کے دل میں الہام کرے گا اور آپ ہی اس کے لئے سامان کر دے گا۔(انوار العلوم جلد 2 ص 73) حضور نے یہ اعلان کا تب کو دینے سے پہلے جب درس قرآن کے وقت سنایا تو اللہ تعالیٰ نے جماعت قادیان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کر دیا کہ اس نے دوسرے ہی دن عام جلسہ کر کے تین ہزار کے قریب وعدے لکھوائے اور اعلان کی اشاعت سے پہلے ہی پانچ سو روپے سے زائد وصول بھی ہو گئے۔بعض مخلصین نے اپنی ساری زمین تبلیغ کے لئے وقف کر دی۔بعض نے اپنا کل اندوختہ نذر کر دیا۔(الفضل 2 مئی 1914 ء ص 11) کئی دوستوں نے اپنی ایک ایک ماہ کی تنخواہ پیش کر دی۔عورتوں نے بھی اس مالی قربانی کی پہلی تحریک میں مردوں کی طرح حصہ لیا۔حضرت اماں جان نے ایک سور و پیہ دیا۔الفضل 27 راپریل 1914 ء 1 ) بعض مستورات نے اپنے زیور تک پیش کر دیئے۔(الفضل 29 اپریل 1914ء ص 1) حضرت مصلح موعود کو اہل قادیان کی اس شاندار قربانی سے پہلے ہی دکھا دیا گیا تھا کہ ایک شخص عبدالصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل منصب خلافت۔انوار العلوم جلد 2 ص 47 ) ہوتی ہیں۔کلاسوں کا اجراء: آغاز خلافت ثانیہ میں مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پانے والے مبلغین کے میدان عمل میں آنے کے لئے ابھی کچھ وقت درکا ر تھا۔مگر جماعتی حالات کا تقاضا تھا کہ ملک میں تبلیغ کا کام جلد سے جلد تیز سے تیز تر کر دیا جائے۔حضرت مصلح موعود نے اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تبلیغی کلاسیں جاری کئے جانے کی ہدایت فرمائی۔یہ کلاسیں مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ میں دو وقت لگتی تھیں اور حضرت قاضی امیر حسین صاحب حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری اور حضرت صوفی غلام محمد صاحب پڑھاتے تھے۔الفضل 27 / اپریل 1914 ء )