خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 54 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 54

54 جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ کے مندرجہ بالا پیغام سے عیاں ہے کہ آپ کی دلی تمنا اور خواہش تھی کہ برصغیر پاک و ہند کے بعد نہ صرف امریکہ اور انڈونیشیا بلکہ ساری دنیا کے ممالک میں نظام وصیت کا قیام عمل میں آجائے سو الحمد للہ حضور نے 1955ء میں جو آواز بلند کی تھی اس کی گونج اب آہستہ آہستہ ساری دنیا میں سنائی دینے لگی ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ 2004ء پر نظام وصیت میں شمولیت کی پر زور تحریک فرمائی جس کے بے حد خوشکن نتائج ظاہر ہوئے۔شعائر اسلامی کی پابندی کا تاکیدی ارشاد 3 اکتوبر 1930ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے شعار اسلامی (داڑھی) کی پابندی کی طرف پر زور توجہ دلائی چنانچہ فرمایا ” احباب کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو شعائر اسلامی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنائیں کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف جارہی ہے اور ہم کہتے ہیں ہم اس طرف چلیں گے۔جس طرف محمد رسول اللہ علہ لے جانا چاہتے ہیں اس سے دنیا پر کتنا رعب پڑے گا دنیا رنگا رنگ کی دلچسپیوں اور ترغیبات سے اپنی طرف کھینچ رہی ہو مگر ہم میں سے ہر ایک یہی کہے کہ میں اس راستہ پر جاؤں گا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا تجویز کردہ ہے تو لازماً دنیا کہے گی کہ محمد رسول اللہ لے کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے متبعین اس کے گرویدہ اور جاں نثار ہیں۔لیکن جو شخص فائدے گن کر مانتا ہے وہ دراصل مانتا نہیں مانتا وہی ہے جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کر رہا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات یہ کہے گا اسے میں مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کر مد نظر رکھتے ہوئے سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکیم یا نیم حکیم سے داڑھی پر کوئی پابندی عائد ہو جائے سب کو داڑھی رکھنی چاہئے مگر یہ ایسی ہی صورت ہے جیسے بیماری کی حالت میں شراب کا استعمال جائز ہے۔اس لئے اس حالت والے چھوڑ کر باقی سب دوستوں کو داڑھی رکھنی چاہئے اور اپنے بچوں کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کرنے والے ہوں اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کا خرچ بند کر دیا جائے اسے کوئی صحیح الدماغ انسان جبر نہیں کہ سکتا۔اس کا نام جبر نہیں بلکہ نظام کی پابندی ہے اور نظام کی پابندی جبر نہیں ہوتا بلکہ