خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 55 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 55

55 اس کے اندر بہت بڑے بڑے فوائد ہیں اور اس کے بغیر دنیا میں گزارہ ہی نہیں ہوسکتا۔الفضل 9 اکتوبر 1930 ء ص 7 کالم 32 حضور نے 19 جون 1942ء کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں شعائر اسلامی کی پابندی کی از حد تاکید کی اور بتایا کہ داڑھی منڈوانے والے احمدی شکست خوردہ ذہنیت رکھتے ہیں۔انہیں جماعت کے کسی عہدہ کے لئے منتخب نہ کیا جائے۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔” جہاں شریعت کے احکام کا سوال آجائے وہاں اگر ہم دوسروں کی نقل کریں تو یقینا ہم اسلام کی ذلت کے سامان کر کے دشمنوں کی مدد کرنے والے قرار پاتے ہیں۔انہی نفلوں میں سے ایک نقل داڑھی منڈوانا ہے۔رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ نہیں متواتر داڑھی منڈوانے سے منع فرمایا ہے اور داڑھی منڈوا کر کوئی خاص فائدہ انسان کو نہیں پہنچتا۔جو شخص رسول کریم ﷺ کی اتنی چھوٹی سی بات نہیں مان سکتا اس سے یہ کب توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی بڑی بات پیش کی جائے تو وہ اسے مان لے گا“۔نیز فرمایا: ” میں نے متواتر جماعتوں کو توجہ دلائی ہے اور ہاں قانون بھی ہے کہ کم سے کم جماعت کے عہد یدار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو داڑھی منڈواتے ہوں اور اس طرح اسلامی احکام کی ہتک کرتے ہوں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب بھی دنیا داری کے لحاظ سے جس کی ذرا تنخواہ زیادہ ہوئی یا چلتا پر زہ ہوا یا دنیاوی لحاظ سے اسے کوئی اعزاز حاصل ہوا اسے جماعت کا عہد یدار بنادیا جاتا ہے خواہ وہ داڑھی منڈوا تا ہو۔حالانکہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کے بڑے سے بڑے لوگ بھی ان لوگوں کے پاسنگ بھی نہیں جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔پس ایسی شکست خوردہ ذہنیت کے لوگ جنہوں نے مغربیت کے آگے ہتھیار ڈال رکھے ہیں۔وہ ہر گز کسی عہدہ کے قابل نہیں ہیں۔وہ بھگوڑے ہیں اور بھگوڑوں کو حکومت دے دینا اول درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں سوال چند بالوں کا نہیں بلکہ یہاں سوال اس ذہنیت کا ہے جو مغربیت کے مقابلہ میں اسلام اور احمدیت نے پیدا کرنی ہے اور جس ذہنیت کو ترک کر کے انسان مغربیت کا غلام بن جاتا ہے۔تمہارا ایمان تو ایسا ہونا چاہئے کہ