خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 589
589 اکثر گھروں میں نہیں ہورہی، چھوٹے چھوٹے صحن ہیں کیاریاں ہیں، چھوٹے سے گھاس کے لان میں اگر ذراسی محنت کریں اور ہفتے میں ایک دن بھی دیں تو اپنے گھروں کے ماحول کو خوبصورت کر سکتے ہیں۔جس سے ہمسایوں کے ماحول پر بھی خوشگوار اثر ہوگا اور آپ کے ماحول میں بھی خوشگوار اثر ہوگا اور پھر آپ کو لوگ کہیں گے کہ ہاں یہ لوگ ذرا منفر دطبیعت کے لوگ ہیں، عام جو ایشینز (Asians) کے خلاف ایک خیال اور تصور گندگی کا پایا جاتا ہے وہ دور ہوگا۔مقامی لوگوں میں کچھ نہ کچھ پھر بھی شوق ہے وہ اپنے پودوں کی طرف توجہ دیتے ہیں جبکہ ہمارے گھر کا ماحول ان لوگوں سے زیادہ صاف ستھرا اور خوشگوار نظر آنا چاہئے اور یہاں تو موسم بھی ایسا ہے کہ ذراسی محنت سے کافی خوبصورتی پیدا کی جاسکتی (الفضل 20 جولائی 2004ء) ہے۔جماعتی عمارات کی صفائی کی تحریک حضور نے خطبہ جمعہ 23 /اپریل 2004ء میں فرمایا:۔صفائی کے ضمن میں ایک انتہائی ضروری بات جو جماعتی طور پر ضروری ہے وہ ہے جماعتی عمارات کے ماحول کو صاف رکھنا۔اس کا پہلے میں ذکر کر چکا ہوں۔اس کا باقاعدہ انتظام ہونا چاہئے اور خدام الاحمدیہ کو وقار عمل بھی کرنا چاہئے اور اگر عمارت کے اندر کا حصہ ہے تو لجنہ کو بھی اس میں حصہ لینا چاہئے اور اس میں سب سے اہم عمارات مساجد ہیں مساجد کے ماحول کو بھی پھولوں ، کیاریوں اور سبزے سے خوبصورت رکھنا چاہئے، خوبصورت بنانا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہئے۔چند سال پہلے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑا تفصیلی خطبہ اس ضمن میں دیا تھا اور توجہ دلائی تھی۔کچھ عرصہ تک تو اس پر عمل ہوا لیکن پھر آہستہ آہستہ اس پر توجہ کم ہو گئی۔خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں مساجد کے اندر ہال کی صفائی کا بھی باقاعدہ انتظام ہو۔تنکوں کی وہاں صفیں بچھی ہوتی ہیں۔صفیں اٹھا کر صفائی کی جائے ، وہاں دیواروں پر جالے بڑی جلدی لگ جاتے ہیں، جالوں کی صفائی کی جائے۔پنکھوں وغیرہ پر مٹی نظر آرہی ہوتی ہے وہ صاف ہونے چاہئیں۔غرض جب آدمی مساجد کے اندر جائے تو انتہائی صفائی کا احساس ہونا چاہئے کہ ایسی جگہ آ گیا ہے جو دوسری جگہوں سے مختلف ہے اور منفرد ہے اور جن مساجد میں قالین وغیرہ بچھے ہوئے ہیں وہاں بھی