خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 553
553 خیال میں ہمیں سورج سے حاصل کردہ توانائی کے متعلق غور کرنا چاہئے کیونکہ بعض علاقوں میں ڈیزل یا پٹرول سے چلنے والے جنریٹر (Generator) کا استعمال بھی آسان نہیں ہے بعض گاؤں سڑک سے 80,70 میل دور ہوتے ہیں یا ان جگہوں سے جہاں سے پڑول یا ڈیزل ملتا ہے بہت دور ہوتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ان جنریٹرز کے بریک ڈاؤن کی صورت میں کوئی مکینک بھی نہیں مل سکتا جو مرمت کر سکے۔میرے خیال میں ہمیں اس کے متعلق خوب غور کر کے بنیادی قسم کے Solar System بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس وقت تک جو معلومات مجھے ملی ہیں وہ تو بہت حوصلہ پست کرنے والی ہیں کیونکہ Solar Cells بہت مہنگے ہیں بلکہ پورا سسٹم ہی بہت زیادہ قیمت کا ہے۔اس لئے میں آپ میں سے ان کو جو اس فیلڈ کے ہیں یعنی Solar Energy System کی فیلڈ میں، ان کو کہتا ہوں کہ ایسے طریقے اور ڈیزائن تلاش کریں جن سے قیمت میں کمی کی جاسکے۔یہ آپ کے لئے یعنی احمدی انجینئر ز کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے فی الحال امریکہ نے سولر سیل کی Manufacturing کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لیا ہوا ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہمیں اور بھی زیادہ سنجیدہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ وقت بہت تیزی سے قریب آ رہا ہے جب آپ دیکھیں گے کہ ہر وہ چیز جو امریکہ سے آئے گی وہ بہت کمیاب ہوگی“۔فرمایا: روزنامه الفضل 30 جون 2004 ء ) جلسہ سالانہ یوکے 2006ء کے موقع پر حضور نے احمدی انجینئر ز کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انٹر نیشنل احمدیہ ایسوسی ایشن آف آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئر ز کے ذمہ میں نے کام لگایا تھا کہ افریقہ میں کم قیمت پر بجلی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع تلاش کرنا، غریب ممالک میں پینے کے لئے صاف پانی مہیا کرنا، عمارات کی تعمیر اور ڈیزائن کے لئے انجینئر ز وقف عارضی کریں اور ڈیزائن کر کے دیں۔چنانچہ ان ہدایات کی روشنی میں یورپین چیپٹر نے کافی کام کیا ہے، سولر سیل کی ٹیکنالوجی اور ونڈ ٹربائن کے غانا میں تین پائلٹ پراجیکٹ لگائے ہیں چائنا جا کر اس ٹیکنالوجی کی مزید معلومات حاصل کی گئیں اور 30 عد دسولر اور ونڈ سسٹمز چائنا سے خریدے گئے۔کافی تعداد میں سولر لائٹس خریدی گئیں ، آسٹریلیا سے بھی معلومات حاصل کی گئیں۔افریقہ میں پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے