خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 503
503 ہوں گے۔اگر نہیں پڑھتے تو پڑھنے کی عادت ڈالیں۔روز کم از کم ایک رکوع پڑھا کریں اور کلاسوں میں بھی شامل ہوا کریں۔خدام الاحمدیہ اگر کلاسیں لگاتی ہے تو بڑی اچھی بات ہے۔نہیں لگاتی تو کلاسیں لگانی چاہئیں۔تاکہ بچوں کو بتا ئیں تو جب آپ لوگ اس طرح تعلیم حاصل کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے لئے بہت مفید وجود بن جائیں گے، جماعت کا ایک بہت مفید حصہ بن جائیں گے۔مشعل راہ جلد نمبر 5 حصہ 2 ص 165 ) قرآن پر عمل کرنے کی تحریک خطبہ جمعہ 21 /اکتوبر 2005ء میں فرمایا:۔آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس رمضان میں اس نصیحت سے پر کلام کو جیسا کہ ہمیں اس کے زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی توفیق مل رہی ہے، اپنی زندگیوں پر لاگو بھی کریں۔اس کے ہر حکم پر جس کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کریں اور جن باتوں کی مناہی کی گئی ہے، جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکیں ، ان سے بچیں اور کبھی بھی ان لوگوں میں سے نہ بنیں جن کے بارے میں خود قرآن کریم میں ذکر ہے۔فرمایا کہ يا رب ان قومي اتخذوا هذا القرآن مهجورا (الفرقان : 31) اور رسول کہے گا اے میرے رب ! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔یہ زمانہ اب وہی ہے جب اور بھی بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔پڑھنے والی کتابیں بھی اور بہت سی آچکی ہیں۔اور بہت ساری دلچسپیوں کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔انٹرنیٹ وغیرہ ہیں جن پر ساری ساری رات یا سارا سارا دن بیٹھے رہتے ہیں۔اس طرح ہے کہ نشے کی حالت ہے اور اس طرح کی اور بھی دلچسپیاں ہیں۔خیالات اور نظریات اور فلسفے بہت سے پیدا ہو چکے ہیں۔جو انسان کو مذہب سے دور لے جانے والے ہیں۔۔۔آج ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے، ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآنی تعلیم پر نہ صرف عمل کرنے والا ہو، اپنے اوپر لاگو کرنے والا ہو بلکہ آگے بھی پھیلائے اور حضرت مسیح موعود کے مشن کو آگے بڑھائے اور کبھی بھی یہ آیت جو میں نے اوپر پڑھی ہے کسی احمدی کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔ہمیشہ حضرت مسیح موعود کا یہ فقرہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہئے کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت