خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 502 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 502

502 کہا تھا کہ انصار اللہ کے ذمہ خلافت ثالثہ میں یہ لگایا گیا تھا کہ قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ دیں۔گھروں کو بھی اس نور سے منور کریں لیکن ابھی بھی جہاں تک میرا اندازہ ہے انصار اللہ میں بھی 100 فیصد قرآن کی تلاوت کرنے والے نہیں ہیں۔اگر جائزہ لیں تو یہی صورتحال سامنے آئے گی اور پھر یہ کہ اس کا ترجمہ پڑھنے والے ہوں“۔(روز نامہ الفضل 7 دسمبر 2004 ء ) ترجمہ سیکھنے کی تحریک حضور نے نیشنل تربیتی کلاس برطانیہ سے خطاب کرتے ہوئے 31 دسمبر 2003ء کو فر مایا:۔قرآن شریف جب آپ پڑھیں پندرہ سولہ سال کی عمر کے جو بچے ہیں بلکہ چودہ سال کی عمر کے بھی۔اب یہ بڑی عمر کے بچے ہیں ، Mature ہو گئے ہیں، سوچیں ان کی بڑی Mature ہونی چاہئیں۔اس عمر میں آکے آپ لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں ، Future کے بارے میں بھی سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔تو اس میں خاص طور پر یا درکھیں کہ قرآن شریف جب آپ پڑھ رہے ہیں تو اس کا ترجمہ بھی سیکھنے کی کوشش کریں۔کیونکہ یہ بھی ایک حدیث ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قرآن شریف جو ہے اس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں۔یہی مطلب ہے کہ اگر تم لوگ اس کو پڑھو اور اس پر عمل کرو، اس کو سمجھو تو تم نیکیاں کرنے کی کوشش کرو گے اور جب تم نیکیاں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تک تم پہنچ سکو گے۔دعائیں کرنے کا تمہیں موقع ملے گا۔نمازیں پڑھنے کا تمہیں مزہ آئے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں جو باتیں ان کو سمجھنے کی توفیق ملے گی“۔مشعل راه جلد 5 حصہ 2 ص 179 180 ) قرآن کلاسز میں شمولیت کی تحریک حضور نے اطفال ریلی برطانیہ سے خطاب میں 10 اپریل 2005 ء کوفر مایا:۔" قرآن کریم پڑھیں۔قرآن کریم پڑھیں گے تو آپ کو پتہ لگے گا کہ ہم نے کیا کیا کچھ کرنا ہے، کیا کیا کچھ اللہ میاں نے ہمیں حکم دیئے ہیں، کیا تعلیم دی ہے۔تو اس طرح آپ کو بہت سارے فائدے ہوں گے۔مجھے امید ہے کہ اکثر بچے ہمارے جو دس سال سے اوپر کے ہیں با قاعدہ قرآن کریم پڑھتے