خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 377
377 ریڈ یوٹیشن کے قیام کی تحریک حضرت خلیفہ مسیح الثالث کی ایک دلی تمنا یا اک خواب احمد ید ریڈ یوٹیشن کا تھا جس کی تعبیر خلافت رابعہ میں ایم ٹی اے کی شکل میں ظاہر ہوئی۔حضور نے خطبہ جمعہ 9 جنوری 1970ء میں پہلی بار یہ اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔جلسہ سالانہ سے کچھ روز پہلے ( کوئی القاء اور خواب کی صورت نہیں ویسے ) بڑے زور سے میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دو چیزیں ہمارے پاس اپنی ہوں۔ایک تو ہمارے پاس ایک بہت اچھا پر لیس ہو۔۔۔دوسری خواہش جو بڑے زور سے میرے دل میں پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک طاقتور ٹرانسمیٹنگ سٹیشن (Transmitting Station) دنیا کے کسی ملک میں جماعت احمدیہ کا اپنا ہو۔اس ٹرانسمیٹنگ سٹیشن کو بہر حال مختلف مدارج میں سے گزرنا پڑے گا لیکن جب وہ اپنے انتہاء کو پہنچے تو اس وقت جتنا طاقتو ر روس کا شارٹ ویوٹیشن (Short Wave Station) ہے جو ساری دنیا الله میں اشتراکیت اور کمیونزم کا پر چار کر رہا ہے۔اس سے زیادہ طاقتور سیشن وہ ہو جو خدا کے نام اور محمدی کی شان کو دنیا میں پھیلانے والا ہو اور چوبیس گھنٹے اپنا یہ کام کر رہا ہو اس کے متعلق میں نے سوچا کہ امریکہ میں تو ہم آج بھی ایک ایسا سٹیشن قائم کر سکتے ہیں وہاں کوئی پابندی نہیں ہے جس طرح آپ ریڈیو رسیونگ سیٹ (Radio Receiving Set) لائسنس لیتے ہیں اسی طرح آپ براڈ کاسٹ Broad Cast) کرنے کا لائسنس لے لیں وہ آپ کو ایک فریکوئنسی (Frequency) دے دیں گے اور آپ وہاں سے براڈ کاسٹ کر سکتے ہیں لیکن امریکہ اتنا مہنگا ہے کہ ابتدائی سرمایہ بھی اس کے لئے زیادہ چاہئے اور اس پر روز مرہ کا خرچ بھی بہت زیادہ ہوگا اور اس وقت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی اس روحانی جماعت کی مالی حالت ایسی اچھی نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں یعنی میدان تو کھلا ہے لیکن ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے۔دوسرے نمبر پر افریقہ کے ممالک ہیں۔نائیجیریا، غانا اور لائبیریا سے بعض دوست یہاں جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے۔غانا والوں سے تو میں نے اس کے متعلق بات نہیں کی لیکن باقی دونوں