خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 354 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 354

354 وقف عارضی کی جو تحریک ہے اس کا بڑا مقصد بھی یہ تھا اور ہے کہ دوست رضا کارانہ طور پر اپنے خرچ پر مختلف جماعتوں میں جائیں اور وہاں قرآن مجید سیکھنے سکھانے کی کلاسز کو منظم کریں اور منتظم طریق پر وہاں کی جماعت کی اس رنگ میں تربیت ہو جائے کہ وہ قرآن کریم کا جو ابشاشت سے اپنی (الفضل 14 مئی 1969ء) گردن پر رکھیں اور دنیا کے لئے نمونہ بن جائیں۔وقف عارضی اور نظام وصیت حضرت خلیفہ لمسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔عارضی وقف کی تحریک جو قرآن کریم سیکھنے سکھانے کے متعلق جاری کی گئی ہے اس کا تعلق نظام وصیت کے ساتھ بڑا گہرا ہے۔بشرى لكم (الفضل 10 اگست 1966 ء ) اللہ تعالیٰ نے حضور کو اس تحریک کی کامیابی اور اس کے ذریعہ قرآنی انوار کے پھیلنے کی بشارت بھی دی۔حضور نے 5 اگست 1966ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا۔اس وقت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ جس طرح بجلی چمکتی ہے اور زمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کر دیتی ہے اسی طرح ایک نور ظاہر ہوا اور اس نے زمین کو ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک ڈھانپ لیا۔پھر میں نے دیکھا کہ اس نور کا ایک حصہ جیسے جمع ہورہا ہے۔پھر اس نے الفاظ کا جامہ پہنا اور ایک پُر شوکت آواز فضا میں گونجی جو اس نور سے ہی بنی ہوئی تھی اور وہ ہی تھی۔بشری لکم یہ ایک بڑی بشارت تھی لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے۔جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کر دیا ہے۔اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے سمجھائے۔چنانچہ وہ ہمارا خدا جو بڑا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اس نے خود اس کی تعبیر اس طرح سمجھائی کہ گزشتہ پیر کے دن میں ظہر کی نماز پڑھا رہا تھا اور تیسری رکعت کے قیام میں تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا ہے اور اس وقت مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ جو