خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 20
20 سینکڑوں معلمین ان کے علاوہ ہیں۔نیز وہ لوگ جو ذاتی مطالعہ اور جوش خدمت کے تحت داعیان کی صف میں شامل ہو گئے وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور کل عالم کو در تو حید پر جھکانے کے لئے تن من دھن قربان کر رہے ہیں۔دینی مدرسہ (جامعہ احمدیہ ) کے قیام کی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام غلبہ اسلام کے جس مشن کو لے کر مبعوث ہوئے تھے وہ بیشمار جانی اور مالی قربانیوں کا متقاضی تھا اور ایسے جاں نثار اور باکردار افراد کی ضرورت تھی جو علمی اسلحہ ، اخلاق کی قوت اور دعاؤں کے سرمایہ سے لبریز ہو کر احمدیت کی خدمت پر کمر بستہ ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدرسہ احمدیہ کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا۔یہ مدرسہ اشاعت اسلام کا ایک ذریعہ بنے اور اس سے ایسے عالم اور زندگی وقف کرنے والے لڑکے نکلیں جو دنیا کی نوکریوں اور مقاصد کو چھوڑ کر خدمت دین کو اختیار کریں۔( ملفوظات جلد چہارم ص 618 مدرسہ احمدیہ جو 1898ء میں اپنی ابتدائی شکل میں پرائمری کلاس تک شروع ہوا تھا ، جلد جلد ترقی کی منازل طے کرتا ہوا 1903 ء تک کالج کے درجے تک پہنچ گیا۔یہ سفر جاری تھا کہ 1905 ء کے سال میں دو بزرگ رفقاء حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی وفات پاگئے۔ان بزرگان کی وفات سے قبل حضرت اقدس مسیح موعود کو الہام بتایا گیا :۔دو شہتیر ٹوٹ گئے۔چنانچہ ان بزرگان کی وفات سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی کہ سلسلے کی مضبوطی کے لئے ایسے شہتیر نما وجودوں کی ضرورت جماعت کو ہمیشہ رہے گی۔چنانچہ دسمبر 1905ء میں ایک موقع پر آپ نے فرمایا۔"مدرسہ کی حالت دیکھ کر دل پارہ پارہ اور زخمی ہو گیا۔علماء کی جماعت فوت ہورہی ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی قلم ہمیشہ چلتی رہتی تھی۔مولوی برہان الدین فوت ہو گئے اب قائم مقام کوئی ( ملفوظات جلد چہارم ص 584)