خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 334
334 ید وقف۔۔۔اس صورت میں ہو گا کہ ان کی جائیداد ان ہی کے پاس رہے گی اور آمد بھی مالک کی ہوگی اور وہی اس کا انتظام بھی کرے گا ہاں جب سلسلہ کے لئے ضرورت ہوگی ایسی ضرورت جو عام چندہ سے پوری نہ ہو سکے تو جتنی رقم کی ضرورت ہوگی اسے ان جائیدادوں پر بحصہ رسدی تقسیم کر دیا جائے گا“۔اس مطالبہ کے اعلان سے قبل نہ صرف حضرت مصلح موعود نے اپنی جائیداد وقف فرما دی بلکہ حضور کا منشاء مبارک معلوم ہوتے ہی چودھری ظفر اللہ خاں صاحب اور نواب مسعود احمد خاں صاحب نے اپنی جائیداد میں اپنے آقا کے حضور پیش کر دیں جس کا ذکر خود حضور نے بایں الفاظ فرمایا:۔میں سب سے پہلے اس غرض کے لئے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔دوسرے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں انہوں نے بھی اپنی جائیداد میری اس تحریک پر دین کی خدمت کے لئے وقف کر دی ہے بلکہ انہوں نے مجھے کہا آپ جانتے ہیں آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اس خواہش کا مجھ سے اظہار بھی کیا تھا کہ میری جائیداد اس غرض کے لئے لے لی جائی۔اب دوبارہ میں اس مقصد کے لئے اپنی جائیداد پیش کرتا ہوں۔تیسرے نمبر پر میرے بھانجے مسعود احمد خاں صاحب ہیں انہوں نے کل سنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فوراً مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے اسے میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کرتا ہوں“۔حضور نے اس وقف کے لئے ایک کمیٹی تشکیل فرمائی جس کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس وقت فلاں ضرورت کے لئے وقف جائیدادوں سے کتنی رقم لی جائے۔نومبر 1944 ء تک قریباً ایک کروڑ روپیہ مالیت کی جائیدادیں وقف ہوئیں۔تحریک وقف جائیداد: حضرت سید نا لمصلح الموعودؓ نے 10 مارچ 1944 ء کو یہ تحریک فرمائی کہ ”ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لئے وقف کر دیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے ان سے مطالبہ کیا جائے گا۔انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لئے پیش کرنے میں قطعاً کوئی عذر نہیں ہوگا۔اس تحریک کے اعلان سے قبل پہلے خود حضور نے پھر چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی