خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 273 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 273

273 حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے صدرانجمن احمد یہ پاکستان کی پہلی سالانہ رپورٹ میں حضور جیسے محسن آقا کے اس لطف و کرم اور شفقت و احسان کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں فرمایا : جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور ہزاروں مرد اور عورتیں اور بچے بے سروسامانی کی حالت میں لاہور میں آکر آستان خلافت پر پڑے تھے۔سینکڑوں تھے جنہیں تن پوشی کے لئے کپڑوں کی ضرورت تھی اور ہزاروں تھے جن کو خورونوش کی فکر تھی اور سینکڑوں تھے جو صدموں کی تاب نہ لا کر بیمار اور مضحل ہورہے تھے۔مزید برآں موسم سرما بھی قریب آرہا تھا اور ان غریبوں کے پاس سردیوں سے بچنے کا کوئی سامان نہ تھا۔پھر ان لوگوں کو مختلف مقامات پر آباد کرانے اور ان کی وجہ معاش کے لئے حسب حالات کوئی سامان کرنے کا کام بھی کچھ کم اہمیت نہ رکھتا تھا۔یہ مشکلات ایسی نہ تھیں جو غیر از جماعت لوگوں پر نہیں آئیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا اور ہمارا ایک مونس و غمخوار تھا۔جب وہ لوگ پراگندہ بھیڑوں کی طرح مارے مارے پھر رہے تھے ہم لوگوں کو آستانہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے ایک گونہ تسکین قلب حاصل تھی۔حضرت مصلح موعود نے اپنے خدام کی تکالیف کو دیکھا اور ان کے مصائب کو سنا اور ہر ممکن ذریعہ سے نہ صرف سلسلہ کی طرف سے بلکہ ذاتی طور بھی ان کی دلجوئی کے سامان کئے۔اپنے روح پرور کلام سے ان کی ہمتوں کو بڑھایا اور ان کے حوصلوں کو بلند کیا۔مہاجر غربا کی تن پوشی کے لئے تحریک کر کے ذی استطاعت اور مخیر اصحاب سے کپڑے مہیا کرائے اور سلسلہ کے اموال کو بے دریغ خرچ کر کے ان کو فقر وفاقہ کی حالت سے بچایا۔بیماروں کے لئے ادویات اور - ڈاکٹروں کا انتظام کرایا اور لاہور سے باہر جا کر آباد ہونے والوں کے لئے حسب ضرورت زاد راہ مہیا کیا اور ان کے گزاروں کے لئے ہر اخلاقی اور مالی امداد فرمائی۔موسم سرما میں کام آنے والے پار چات مہیا کرائے۔غرض ہزاروں ، لاکھوں برکات اور افضال نازل ہوں اس محبوب اور مقدس آقا پر جس نے ایسے روح فرسا حالات میں اپنے خدام کی دستگیری فرمائی۔ہمارے دل حضور کے لئے شکر و امتنان کے جذبات سے معمور ہیں لیکن ہماری زبانیں ان جذبات کے اظہار سے عاجز ہیں۔سیلاب میں خدمات: ( احمد یہ رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ 48-1947 ء ص 50) 1954ء اور 1955ء میں برصغیر میں سیلاب آیا جس کے نتیجہ میں بھارت ، مغربی پاکستان اور