خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 272 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 272

272 خصوصاً جو قادیان میں پناہ گزین تھے اور وہاں سے آئے ہیں ان سب کا مال سکھوں اور ملٹری نے لوٹ لیا تھا۔ان میں سے ہر شخص کے لئے بستر اور کپڑے مہیا کرنا سیالکوٹ کی جماعت کا فرض ہے۔ہمارے ملک میں یہ عام دستور ہے کہ زمیندار ایک دو بستر زائد رکھتے ہیں تا کہ آنے والے مہمانوں کو دیئے جاسکیں۔ایسے تمام بستر ان لوگوں میں تقسیم کر دینے چاہئیں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے بھی جتنے بستر مہیا ہو سکیں جمع کر کے ان لوگوں میں بانٹنے چاہئیں۔اس کے علاوہ سیالکوٹ کی تمام زمیندار جماعتوں کو اپنا یہ فرض سمجھنا چاہئے کہ تمام اردگرد کے تالابوں سے کسیر جمع کر کے اپنے چھکڑوں میں ان جگہوں پر پہنچائیں جہاں پناہ گزین آباد ہوئے ہیں۔اسی طرح گنوں کی کھوری اور دھان کے چھلکے جمع کر کے ان لوگوں کے گھر میں پہنچادیں تا کہ بطور بستروں کے کام آسکے۔تمام جماعتوں اور پریذیڈنٹوں کو اپنی رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کرنا چاہئے کہ انہوں نے اس ہفتہ یا اس مہینہ میں پناہ گزینوں کی کیا خدمت کی ہے اور ان کے آرام کے لئے انہوں نے کیا کوششیں کی ہیں۔سیالکوٹ کے علاوہ دوسرے اضلاع میں جو آدمی بس رہے ہیں۔ان کی امداد کے لئے بھی وہاں کی جماعتوں کو فوراً توجہ کرنی چاہئے۔اپنے زائد بستر ان کو دے دینے چاہئیں۔اسی طرح جولوگ قادیان سے آرہے ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں ان کے لئے بھی کچھ کپڑے بھجوانے چاہئیں۔زیادہ کمبلوں ، لحافوں، تو شکوں اور تکیوں کی ضرورت ہے۔چونکہ سردی روز بروز بڑھ رہی ہے اس کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے اور خواہ آدمی کے ذریعے سے یہ چیزیں بھجوانی پڑیں جلد از جلد یہ چیزیں ہمیں بھجوا دینی چاہئیں۔اس کے علاوہ میں جماعتوں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے اردگرد کی منڈیوں وغیرہ میں اگر دکانیں نکالنے کا موقعہ ہو، ایسی دکانیں جو غریب اور بیکس لوگ بغیر روپیہ کے جاری کر سکیں تو ان کے متعلق بھی فوراً مجھے چٹھیاں لکھیں تا ایسے لوگوں کو جو تعلیم یافتہ ہیں اور تجارت کا کام کر سکتے ہیں ، وہاں بھجوا دیا جائے“۔الفضل 17 اکتوبر 1947ءص3) حضرت مصلح موعودؓ کے اس پر درد اور اثر انگیز پیغام نے پاکستان کی احمدی جماعتوں پر بجلی کا اثر کیا اور انہوں نے اپنے پناہ گزین بھائیوں کی موسمی ضروریات کو پورا کر دینے کی ایسی سر توڑ کوشش کی کہ انصار مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی اور اس طرح حضرت مصلح موعود کی بر وقت توجہ سے ہزاروں قیمتی اور معصوم جانیں موسم سرما کی ہلاکت آفرینیوں سے بچ گئیں۔