خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 263 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 263

263 بوہرہ جماعت کے قومی مفاد کا تحفظ حضرت خلیفہ المسیح الثانی مسلمانوں کے ہر مذہبی فرقہ کے قومی مفاد کی حفاظت کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے اس ضمن میں بوہرہ کمیونٹی کے امام سے بھی حضور کے مراسم و روابط تھے۔1933ء میں بوہروں میں باہمی چپقلش پیدا ہوئی۔جس کو ختم کرنے اور ان کی مرکزیت برقرار رکھنے کے لئے حضور نے حکیمانہ اقدامات کئے۔تاریخ احمدیت جلد 6 ص 105) زلزلہ زدگان کی امداد حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے مطابق 15 جنوری 1934 ء کو ہندوستان میں ایک قیامت خیز زلزلہ آیا جس نے بنگال سے لے کر پنجاب تک تباہی مچادی۔اس موقع پر حضور نے مصیبت زدگان کی مدد کرنے کے لئے خطبہ ارشاد فرمایا اور 2 فروری 1934ء کو فرمایا:۔ہمیں اپنے عمل سے ثابت کر دینا چاہئے کہ ہمیں ہمدردی سب سے زیادہ ہے۔میں نے چندہ کی اپیل کی ہے، اس پر جو لوگ بشاشت سے لبیک نہ کہہ سکیں وہ اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر بھی چندہ دیں مگر سلسلہ کے دوسرے کاموں کو نقصان پہنچائے بغیر۔یہ کوئی نیکی نہیں کہ ایک نیک کام چھوڑ کر دوسرا اختیار کر لیا جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی پاجامہ ایک لات پر پہن لے اور پھر توجہ دلائے جانے پر اسے اتار کر دوسری پر پہن لے۔پس مستقل چندہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر اور پہلی نیکیوں کو قائم رکھتے ہوئے اس طرف توجہ کی جائے۔میں نے جو مسئلہ بیان کیا ہے اگر یہ سمجھ میں آجائے تو بشاشت کے ساتھ اور اگر نہ آئے تو اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر اس تحریک میں حصہ لیا جائے یہ قربانی کا موقع ہے۔اگر بشاشت ہو تو فیھا وگرنہ عبودیت اور فرمانبرداری کے ماتحت اس میں حصہ لیا جائے اور جہاں تک ہو چکے مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کی جائے۔مونگھیر میں سوائے دو کے باقی سب احمد یوں کے مکان گر گئے ہیں۔ان کی مد دضروری ہے تا کہ وہ ان کو مرمت کر سکیں اور باقی مستحقین کو بھی امداد دی جا سکے۔اگر جماعت توجہ کرے تو اس کی امداد سب سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے لوگ اگر چہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر ان کے صرف امراء ہی چندہ دیں گے لیکن جماعت اگر فرض شناسی سے