خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 256 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 256

256 چنانچہ حضور نے 26 جولائی 1940ء کو چالیس سال سے اوپر کے احمدیوں کی ایک مستقل تنظیم کی بنیاد رکھی ، جس کا نام "مجلس انصاراللہ تجویز فرمایا اور آغاز میں قادیان میں رہنے والے اس عمر کے تمام احمدیوں کی شمولیت اس میں لازمی اور ضروری قرار دی۔انصار اللہ کی تنظیم کا عارضی پریذیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب کو نا مزدفرمایا۔اس موقعہ پر حضور نے مجلس انصار اللہ کی نسبت بعض بنیادی ہدایات بھی دیں۔حضور نے فرمایا:۔چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ان کے لئے بھی لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔اگر مناسب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں 3 دن یا کم و بیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔مگر بہر حال تمام بچوں، بوڑھوں اور نو جوانوں کا بغیر کسی استثناء کے قادیان میں منظم ہو جا نالا زمی ہے۔تین سیکرٹری میں نے اس لئے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے ان کو فوراً قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بٹھا دینے چاہئیں اور چالیس سال سے او پر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہئے۔یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہولت ہو سکتی ہے اور جو شخص جس کام کے لئے موزوں ہواس کے لئے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام لیا جائے۔یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے بھی زیادہ وقت لیا جا سکتا ہے میرا ان دونوں مجلسوں سے ایسا ہی تعلق ہوگا جیسا مربی کا تعلق ہوتا ہے اور ان کے کام کی آخری نگرانی میرے ذمہ ہوگی یا جو بھی خلیفہ وقت ہو۔میرا اختیار ہوگا کہ جب بھی مناسب سمجھوں ان دونوں مجلسوں کا اجلاس اپنی صدارت میں بلالوں اور اپنی موجودگی میں ان کو اپنا اجلاس منعقد کرنے کے لئے کہوں۔یہ اعلان پہلے صرف قادیان والوں کے لئے ہے اس لئے ان کو میں پھر متنبہ کرتا ہوں کہ کوئی فردا پنی مرضی سے ان مجالس سے باہر نہیں رہ سکتا۔سوائے اس کے جو اپنی مرضی سے ہمیں چھوڑ کر الگ ہو جانا چاہتا ہو۔ہر شخص کو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونا پڑے گا اور اس تنظیم کے ذریعہ علاوہ اور کاموں کے اس امر کی بھی نگرانی رکھی جائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا پابند نہ ہو۔سوائے ان زمینداروں کے جنہیں کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔یا سوائے ان مزدوروں کے جنہیں