خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 232 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 232

232 تحریک وقف جدید جس طرح تحریک جدید دعوت الی اللہ سے متعلق تحریکات کی سرخیل ہے اسی طرح تربیتی تحریکات میں سب سے اہم اور جامع تحریک وقف جدید کی تحریک ہے۔تحریک جدید اگر اللہ اور رسول کی خاطر نئے علاقے فتح کرنے کا نام ہے تو وقف جدیدان مفتوحہ علاقوں کے ہر فرد کو سچا احمدی بنانے کا نام ہے۔اس تحریک کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قیام پاکستان تک حضرت مسیح موعود کو دیکھنے والے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کرنے والے بہت سے بزرگ جماعتوں میں موجود تھے اور یہ بزرگ جماعت کے افراد کی علمی اور روحانی ضرورتیں پوری کر رہے تھے۔1947ء تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں جماعتوں کا نظام قائم نہ رہ سکا۔بہت سے بزرگ وفات پاگئے۔خاندانوں کے افراد مختلف جگہوں پر جا کر آباد ہو گئے۔جو افراد جماعت شہروں میں آ کر آباد ہوئے وہاں ذیلی تنظیمیں مضبوط تھیں اس لئے وہاں تعلیم و تربیت کا مسئلہ حل ہو گیا۔تعلیمی سہولتوں کی وجہ سے ان کا معیار تعلیم بھی زیادہ ہوتا ہے اور وہ ذاتی مطالعہ سے اپنی کمی کو دور کر لیتے ہیں۔علماء سلسلہ کی بھی شہروں میں آمد و رفت رہتی ہے جس سے یہ جماعتیں مستفیض ہوتی ہیں۔مگر دیہاتی جماعتوں میں یہ سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔یہ افراد تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہوتے ہیں اور ان کی مصروفیات بھی مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔سال کے بعض دنوں میں یہ بہت زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔اس لئے ان کو کوشش کر کے ہی اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی معلم یا مربی ان لوگوں میں رہ کر ان کی تعلیم و تربیت کرے۔اس لئے دیہاتی جماعتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے وقف جدید کا نام لئے بغیر ایک تحریک جاری کرنے کا اعلان پہلی دفعہ 9 جولائی 1957 ء کو عیدالاضحیٰ کے خطبہ میں فرمایا۔آپ نے فرمایا:۔در حقیقت قربانیوں کی عید ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم خدا کی خاطر اور اس کے بعد دین کے لئے جنگلوں میں جائیں اور وہاں جا کر خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کریں اور لوگوں سے اس کے رسول کا پڑھوائیں۔جیسا کہ ہمارے صوفیا کرام کرتے چلے آئے ہیں۔پس تم اپنے آپ کو اس قربانی