خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 220 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 220

220 اعلیٰ دنیاوی تعلیم کے متعلق تحریکات مدارس کے قیام کی تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی خلافت کے آغاز میں ہی 12 اپریل 1914ء کو نمائندگان مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔یزکیھم کے معنوں میں ابھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی شامل ہے اور اسی میں انگریزی مدرسہ، اشاعت اسلام وغیر ہما امور آجاتے ہیں۔اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہ مختلف مقامات پر مدر سے کھولے جائیں۔زمیندار اس مدرسہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سر دست پرائمری سکول کھولے جائیں ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہوں گے۔ایسا ہونا چاہئے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔صحابہؓ نے تعلیم کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں۔آنحضرت مع اللہ نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیہ صلى الله آزادی یہ مقررفرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔میں جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت میے کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوش محبت سے روح بھر جاتی ہے۔آپ نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے پھر حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ المسیح نے بھی اسی نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتا ہو۔غرض عام تعلیم کی ترقی کے لئے سر دست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ان تمام مدارس میں قرآن مجید پڑھایا جائے اور عملی دین سکھایا جائے نماز کی پابندی کرائی جائے۔مومن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا۔پس تعلیم عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہئے اگر اس مقصد کے ماتحت پرائمری سکول کھولے جائیں گے تو گورنمنٹ سے بھی مددمل سکتی ہے۔66 منصب خلافت انوار العلوم جلد 2 ص 49)