خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 5
5 وتذهب ریحکم۔اس منازعت سے تم بودے ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا بگڑ جاوے گی۔پس تنازعہ نہ کرو۔اللہ تعالیٰ چونکہ خالق فطرت ہے اور جانتا تھا کہ جھگڑا ہوگا۔اس لئے فرمایا۔فاصبروا ان الله مع الصابرین۔پس جب سیکرٹری اور پریذیڈنٹ سے منازعت ہو۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کرو۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو گا۔پھر فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ تم فرمانبردار رہو۔اختلاف نہ کر یو ، جھگڑا نہ کرنا۔( بدر 12 جنوری 1911 ء ) مجھے شوق یہ ہے کہ میری جماعت میں تفرقہ نہ ہو۔دنیا کوئی چیز نہیں میں بہت راضی ہوں گا۔اگر تم میں اتفاق ہو۔میں نے تمہاری بھلائی کے لئے بہت دعائیں کیں۔مجھے طمع نہیں اور ہرگز نہیں۔پھر فرمایا مجھے تم سے کوئی دنیا کا طمع نہیں۔مجھے میرا مولیٰ بہت رازوں سے دیتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔خبر دار جھگڑا نہ کرنا۔تفرقہ نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا اور اس میں تمہاری عزت اور طاقت باقی رہے گی۔نہیں تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔( بدر 26 جنوری 1911ء) خطبہ عید الفطر میں فرمایا:۔کوئی قوم سوائے وحدت کے نہیں بن سکتی بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کوئی انسان سوائے وحدت کے انسان نہیں بن سکتا۔کوئی محلہ سوائے وحدت کے محلہ نہیں بن سکتا اور کوئی گاؤں سوائے وحدت کے گاؤں نہیں بن سکتا اور کوئی ملک سوائے وحدت کے ملک نہیں بن سکتا اور کوئی سلطنت سوائے وحدت کے سلطنت نہیں بن سکتی پھر میں کہتا ہوں کہ جب تک وحدت نہ ہوگی تم کوئی ترقی نہیں کر سکتے“۔( بدر 21 اکتوبر 1909 ء ص 10) جھگڑوں سے بچنے کی تلقین 5 جولائی 1913ء کو حضور نے چغل خوری، نمامی، هیزم کشی بخن چینی اور فساد کی باتیں پھیلانے اور ایک دوسرے کو لڑوانے پر نہایت مؤثر اور دل ہلا دینے والے پیرایہ میں سخت تنبیہ فرمائی اور استغفرالله ربي من كل ذنب و اتوب اليه تین بار پڑھوا کر گویا ایک قسم کی بیعت لی۔اس