خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 4 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 4

4 صحیحہ کے پڑھنے سننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور اشاعت اسلام میں جان و مال سے بقدر وسعت و طاقت کمر بستہ رہوں گا اور انتظام زکوۃ بہت احتیاط سے کروں گا اور با ہمی اخوان میں رشتہ محبت کے قائم رکھنے اور قائم کرنے میں سعی کروں گا۔استغفر الله ربي من كل ذنب و اتوب اليه ( تین بار ) رب انی ظـلـمـت نـفسی و اعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي فانه لا يغفر الذنوب الا انت ( بدر 2 جون 1908ء ص 1) ترجمہ: اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔آمین جلسہ سالانہ مارچ 1910ء کے موقعہ پر آپ نے الفاظ بیعت میں مندرجہ ذیل کلمات کا اضافہ فرمایا کہ میں شرک نہیں کروں گا۔چوری نہیں کروں گا۔بدکاریوں کے نزدیک نہیں جاؤں گا۔کسی پر بہتان نہیں لگاؤں گا۔چھوٹے بچوں کو ضائع نہیں کروں گا۔نماز کی پابندی کروں گا اور زکوۃ اور حج اپنی طاقتوں کے موافق ادا کرنے کو مستعد رہوں گا“۔بلکہ یہ بھی فرمایا کہ میں الفاظ بیعت میں یہ بھی بڑھانا چاہتا تھا کہ آپس میں محبت بڑھائیں گئے۔مگر میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔اس لئے میں ڈر گیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ معاہدہ کا خلاف کریں اور پھر معاہدہ کی خلاف ورزی سے نفاق پیدا ہو جاتا ہے۔(حیات نورص 337) قومی وحدت کے لئے تحریکات حضرت خلیفہ امسیح الا ول ایک طرف تو خلافت کے استحکام کے لئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لا رہے تھے تو دوسری طرف قومی وحدت کے قیام کے لئے سرگرم عمل تھے۔آپ کے خطبات اور تقاریر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ہر گفتگو کا ایک اہم نکتہ باہمی محبت اور پیار اور افتراق سے بچنے کی تلقین پر مشتمل ہوتا تھا۔ایک بار فرمایا: پہلی نصیحت یہ ہے اور خدا کے لئے اسے مان لو۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔لا تـنــاز عــوا فـتـفـشـلـوا