خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 194
194 دل منظر تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقوم اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دے۔قریباً نصف گھنٹہ کے عرصہ میں۔371000 روپے کے وعدے ہوئے جس کا حضور نے کھڑے ہو کر اعلان کیا اور فرمایا ”ابھی کچھ دوست رہتے ہیں۔جو سوچ رہے ہوں گے اور اکثر ایسے بھی ہیں جنہوں نے مشورہ وغیرہ کرنا ہوگا اور ابھی ہزاروں ہزار دوست ایسے ہیں جو ہم سے کسی طرح اخلاص میں کم نہیں ہیں مگر وہ اس وقت دور بیٹھے ہیں۔جب آپ لوگ جا کر ان کو اطلاع دیں گے تو وہ کبھی بھی آپ سے پیچھے نہر ہیں گے اور ممکن ہے مطلوبہ رقم سے بہت زیادہ روپیہ جمع ہو جائے“۔اس کے بعد فرمایا ”سب سے پہلے میں جائیداد کے وقف کو لیتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے الہام کے ماتحت جاری کیا گیا ہے۔مگر میں نہایت افسوس سے کہتا ہوں کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی اور صرف دو ہزار آدمیوں نے اس وقت تک اس میں حصہ لیا ہے۔حالانکہ لاکھوں کی جماعت ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے لاکھوں ہی کو وقف کرنا چاہئے تھا۔آپ میں سے جن دوستوں نے اپنی آمد یا جائیداد وقف کی ہوئی ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔(اس پر 455 میں سے جو ہال میں تھے صرف 167 کھڑے ہوئے ) فرمایا یہ تعداد ہے جو 35 فیصدی کے قریب بنتی ہے۔اس پر دوسری جماعت کا بھی اندازہ کر لیں۔آپ میں سے جو لوگ اس وقت وقف کرنا چاہیں وہ بھی اپنے نام اور جائیداد کی قیمت وغیرہ لکھ دیں۔اس پر ہر طرف سے ناموں کی آواز آنے لگی اور کارکنوں نے نام لکھنے شروع کئے۔اس سلسلہ کے ختم ہونے پر حضور نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ جماعتوں میں جا کر دوسرے لوگوں کو بھی اس کارخیر میں شریک کریں۔ہم اس بات سے خوش نہیں ہو سکتے کہ ہم میں سے اتنے لوگوں نے حصہ لیا۔بلکہ ہمیں تبھی خوشی ہو سکتی ہے کہ جب جماعت کے ہر فرد نے اس میں شرکت کی ہو اور کوئی بھی اس سے باہر نہ رہا ہو۔یہی زندہ جماعتوں کی علامت ہے اس ضمن میں فرمایا اس وقت میں تجویز کرتا ہوں کہ وقف جائیداد والے دوست اپنی جائیداد کی کل قیمت کا ایک فیصدی چھ ماہ کے اندر اندر مرکز میں جمع کرا دیں اور وہ جنہوں نے ایک ماہ یا دو ماہ کی آمد وقف کی ہوئی ہے وہ ایک ماہ کی آمد بھیج دیں اور جن لوگوں نے وقف نہیں کی وہ بھی اس چندہ میں حصہ ضرور لیں۔وہ اپنی کل جائیداد کی قیمت کا 1/2 فیصدی اور اپنی ایک ماہ کی آمد کا نصف چھ ماہ کے اندراندر یہاں بھیج دیں“۔بالآخر حضور نے نہایت پُر جوش کلمات میں نمائندگان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔