خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 193 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 193

193 حفاظت مرکز کے لئے جماعت سے دو لاکھ کی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر اس وقت تک صرف 36 ہزار کے قریب رقم جمع ہوئی ہے۔میں حیران ہوں کہ موجودہ ہولناک تباہیوں اور خونریزیوں کو دیکھتے ہوئے جماعت نے کس طرح اتنی رقم پر اکتفا کیا۔کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ حقیر رقم شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے کافی ہے اور ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔اس سے سینکڑوں گنا زیادہ تو تم سال بھر میں اپنے بیماروں پر خرچ کر دیتے ہو۔کیا شعائر اللہ کو اتنی اہمیت بھی حاصل نہیں ؟ اب آپ مجھے بتائیں کہ بقیہ رقم کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟“ حضرت مصلح موعودؓ کے اس ارشاد پر کئی دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سب کچھ قربان کر دینے کا یقین دلایا۔احباب اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تو سید نا حضرت الصلح الموعودؓ نے فرمایا:۔دنیا میں ہر شخص کے لئے آزادی ہے سوائے ہمارے کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ایک عمارت جو مٹی اور اینٹوں کی بنی ہوئی ہے اس سے ایک مومن کی جان کہیں قیمتی ہوتی ہے لیکن جب وہ عمارت اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے لگے اور شعائر اللہ بن جائے تو اس کی حفاظت کے لئے سینکڑوں مومنوں کی جان بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور انہیں خوشی سے قربان کیا جاسکتا ہے۔پس جماعت نے اگر ان باتوں کو مد نظر نہیں رکھا تھا تو میرا فرض تھا کہ میں انہیں احساس ذمہ داری دلاؤں اور ان کے مونہوں سے کہلواؤں کہ ہم سے غفلت ہوئی۔سو میں سمجھتا ہوں کہ وہ غرض پوری ہو گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کمی کس طرح پوری کی جائے۔ہمارے عام چندے تو ان اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ہمیں کوئی اور طریق اختیار کرنے ہوں گے۔سو اس کے لئے جماعت سے میرا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ دوست جن کی رقوم باہر بینکوں میں جمع ہیں وہ بطور امانت قادیان بھیج دیں تا کہ سلسلہ کو اگر کوئی فوری ضرورت پڑے تو اس میں سے خرچ کر سکے اور پھر آہستہ آہستہ اس کمی کو پورا کر دے۔یہ رقوم بطور امانت کے ہوں گی اور بوقت ضرورت واپس مل سکیں گی۔اس طرح سلسلہ کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور آپ لوگوں کے ایمان کا امتحان بھی ہو جائے گا۔جو دوست اس تحریک پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنے نام اور رقوم لکھا دیں۔حضور کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا ہی تھا کہ مخلصین نے نہایت ذوق و شوق سے اپنے نام لکھانے شروع کر دیے۔ہر چہرہ سے یہی اضطراب ظاہر ہوتا تھا کہ وہ دوسروں سے سبقت لینا چاہتا ہے اور ہر