خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 192
192 احباب جلسہ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہ اس نئے مکان کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کریں یہ بھی ارشاد فر مایا کہ ” میں نے قرض لے کر ایک مکان بنوایا ہے کیونکہ اب ہمارے گھر میں اتنی تنگی ہے کہ ایک ایک کمرہ میں جیل کی اتنی جگہ کے مقابلہ میں دو گنے افرا در ہتے ہیں۔۔۔مجھے مکان بنوانے سے ہمیشہ ڈر آتا ہے جو مکان بنوایا گیا ہے اس کے متعلق بھی میرے دل پر بوجھ ہے اس لئے دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ دعا کریں خدا تعالیٰ اس مکان کو بابرکت کرے۔میں تو اس میں رہنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا۔میرے لئے تو حضرت مسیح موعود کا مکان ہی بہترین ہے مگر جو اس میں جا کر رہے اس کے لئے دعا کی جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکات سے اسے حصہ ملے۔غرضیکہ متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ دارالانوار کی بناء پڑی اور دراصل انہیں دعاؤں کا اثر تھا کہ چند سالوں کے اندر اندر قادیان کا یہ مشرقی علاقہ آباد ہو گیا اور ہر طرف خوبصورت اور عالی شان عمارتیں بن گئیں۔حضرت اماں جان کی کوٹھی بیت النصرت ( جو حضرت اماں جان نے کمال ما درانہ شفقت سے حضرت صاحبزدہ مرزا ناصر احمد صاحب کو تحفہ دے کر دلی محبت کے اظہار سے ان کی عزت افزائی فرمائی اور چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی ” بیت الظفر ، جن کی بنیاد حضور کے دست مبارک سے بالترتیب 23 فروری 1933 ء اور 12 اپریل 1934 ء کو رکھی گئی اسی محلہ میں تعمیر ہوئیں۔اسی طرح گیسٹ ہاؤس اور دفتر خدام الاحمدیہ مرکز یہ بھی یہیں بنے۔حفاظت مرکز اور وقف جائیداد کی تحریک متحدہ ہندوستان کی آخری مجلس مشاورت 4, 5, 16 اپریل 1947ء کو منعقد ہوئی۔اس مشاورت کا اہم ترین واقعہ حضرت مصلح موعود کی طرف سے حفاظت مرکز کے لئے مالی تحریک اور اس پر مخلصین جماعت کا شاندار رنگ میں لبیک کہنے کا ایمان افروز نظارہ ہے۔جو مشاورت کے دوسرے دن 5 را پریل کو نماز مغرب وعشاء کے بعد دیکھنے میں آیا۔اس روز تیسرا اجلاس 9 بجے شب شروع ہوا۔جس کے آغاز میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔