خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 146
146 سب جماعتوں پر سبقت لے گئی۔نئے مراکز کا قیام: الفضل 24 جنوری، 14 فروری 1935ء) تبلیغی جائزہ کی رپورٹیں موصول ہونے پر حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے تحریک جدید کے زیرانتظام شروع 1935ء میں چار تبلیغی مراکز قائم فرمائے جن میں مکیریاں (ضلع ہوشیار پور ) اور ویرووال (ضلع امرتسر ) کے مشن بالخصوص قابل ذکر ہیں۔مکیریاں مشن کا قیام مختار احمد صاحب ایاز ( پہلے امیر المجاہدین) کی کوششوں سے ہوا۔مرکز کے لئے ایک احمدی مولوی محمد عزیز الدین صاحب سٹیشن ماسٹر ا بن حضرت مولوی محمد وزیر الدین صاحب (313) نے اپنا مکان ہبہ کر دیا تھا۔اس مشن کی ذیلی شاخیں حسب ذیل مقامات پر کھولی گئیں، چھنیاں، بہبووال، مہت پور۔تحریک جدید کے قومی سرمایہ سے ( زینت محل لال کنواں ) دہلی میں ویدک یونانی دواخانہ قائم کیا گیا۔دواخانہ جاری کرنے سے پہلے حضرت مصلح موعودؓ نے چند واقفین کو یونانی طب کی تعلیم دلائی اور خود بھی ویدک اور یونانی ادویہ سے متعلق قیمتی مشورے دیئے۔تحریک جدید کی طرف سے ایک مناسب رقم انگریزی ترجمہ القرآن کے لئے مخصوص کر دی گئی اور اس کی ترتیب و تدوین کے لئے 26 فروری 1936 ء کو حضرت مولوی شیر علی صاحب انگلستان بھجوائے گئے۔آپ 9 نومبر 1938ء کو واپس قادیان میں تشریف لائے۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے ریز روفنڈ کی نسبت فرمایا کہ میں نے آج سے کچھ سال پہلے 25 لاکھ ریز روفنڈ کی تحریک کی تھی مگر وہ تو ایسا خواب رہا جو تشنہ تعبیر ہی رہا مگر اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے ذریعہ اب پھر ایسے ریز روفنڈ کے جمع کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے اور ایسی جائیدادوں پر یہ روپیہ لگایا جا چکا اور لگایا جارہا ہے جن کی مستقل آمد 30,25 ہزار روپیہ سالانہ ہوسکتی ہے تا تبلیغ کے کام کو بجٹ کی کمی کی وجہ سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔الفضل24 نومبر 1938ءص11) ثمرات و برکات تحریک جدید کی کامیابیاں سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا نہایت درخشاں پہلو ہے۔اس نے نہ صرف