خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 147
147 جماعت کی عملی زندگی میں حیرت انگیز انقلاب برپا کیا بلکہ بیرونی فتوحات کا بھی دروازہ کھول دیا۔وہ جماعت جسے مخالفین قادیان کے اندر گلا گھونٹنے کی دھمکیاں دے رہے تھے وہ ایک سیلاب کی طرح بلندیوں اور پستیوں کو عبور کرتی ہوئی زمین کے کناروں تک پھیل گئی۔تحریک جدید عالمی غلبہ حق میں جو کردار ادا کر رہی ہے اس کا نظارہ دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔1۔خلافت ثانیہ کے اختتام تک اس کے ثمرات 1934ء تا 1965ء 2۔تازہ ترین اعداد و شمار خلافت ثانیہ میں خدمات یہ تحریک ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ سے شروع ہوئی اور 66-1965 ء اس کا سالانہ بجٹ قریب چھتیس لاکھ روپے تک پہنچ چکا تھا۔دنیا کے مختلف براعظموں کے 40 ملکوں میں اس کے 136 مضبوط مشن قائم ہوئے اور ان کے علاوہ کئی ممالک میں منظم جماعتیں قائم ہوئیں جو مالی اور دعوت الی اللہ کے جہاد میں حصہ لے رہی تھیں۔جن چالیس ملکوں میں مشن قائم ہوئے ان کے نام یہ ہیں:۔شمالی امریکہ: ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، ٹرینیڈاڈ ، برٹش گی آنا۔یورپ انگلینڈ ، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ ، سپین، ڈنمارک، جرمنی۔مغربی افریقہ نائیجیریا، غانا، سیرالیون ، لائبیریا، گیمبیا، آئیوری کوسٹ ٹو گولینڈ۔مشرقی افریقہ : کینیا ، ٹا نگا، یوگنڈا، ماریشس ، جنوبی افریقہ۔مشرق وسطی : فلسطین، لبنان ، شام ، عدن، مصر، کو بیت ،عراق ، بحرین، دوبئی۔ممالک بحر ہند : بر ما سیلون۔مشرق بعید: ہانگ کانگ، سنگاپور کوالا لمپور ،شمالی بور نیو، جاپان، جزائر فجی فلپائن اور انڈونیشیا۔ان کے علاوہ چین، ایران، اردن، ایتھوپیا، سومالی لینڈ، کانگو، سویڈن، ناروے، فرانس، اٹلی ، جزائر سلی، رومانی، بلغاریہ، یوگوسلاویہ البانیہ ہنری پولینڈ ارجنٹائن اور دیگر کئی ممالک میں با قاعدہ مبلغین کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچایا جا چکا تھا اور کئی ممالک میں لٹریچر کے ذریعہ احمدیت سے روشناس کرایا گیا۔