خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 144 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 144

144 وقف کے لئے پیش کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا: یہ قربانی کی روح کہ تین سال کے لئے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے اسلام اور ایمان کی رو سے تو کچھ نہیں۔لیکن موجودہ زمانہ کی حالت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے۔۔اس قسم کی مثال کسی ایک قوم میں بھی جو جماعت احمدیہ ے سینکڑوں گے زیادہ ہولانی محال ہے۔کئی پنشنر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے حکم کی تعمیل میں آگے آئے اور مرکز میں کام کرنے لگے مثلاً خانصاحب فرزند علی صاحب، بابوسراج دین صاحب خانصاحب برکت علی صاحب، ملک مولا بخش صاحب اور خان بہادر غلام محمد صاحب گلگتی و غیر ہم۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ایک خطبہ میں بھی ان کی خدمات کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔تحریک جدید کے تحت وقف زندگی کے مستقل نظام نے جنم لیا۔جس کے تحت ہزاروں مستقل یا عارضی واقفین کل عالم میں خدمات بجالا رہے ہیں۔حضور کے اس مطالبہ کے تحت کہ بریکار نوجوان باہر غیر ممالک میں نکل جائیں، کئی نوجوان اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور نا مساعد حالات کے باوجود غیر ممالک میں پہنچ گئے۔چنانچہ حضرت خلیفہ ایچ نے شروع 1935ء میں بتایا کہ ایک نوجوان جالندھر سے پیدل چل کر 1500 میل دور رنگون پہنچ گیا اور اب سٹریٹ سیٹلمنٹس کی طرف جارہا ہے۔(خطبات محمود جلد 17 صفحہ 26) پھر فرمایا: ایک نوجوان نے گزشتہ سال میری تحریک کو سنا۔وہ ضلع سرگودھا کا باشندہ ہے۔وہ نوجوان بغیر پاسپورٹ کے ہی افغانستان جا پہنچا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔حکومت نے اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تو وہاں قیدیوں اور افسروں کو تبلیغ کرنے لگا اور وہاں کے احمدیوں سے بھی وہیں واقفیت ہم پہنچالی اور بعض لوگوں پر اثر ڈال لیا۔آخر افسروں نے رپورٹ کی کہ یہ تو قید خانہ میں بھی اثر پیدا کر رہا ہے۔ملانوں نے قتل کا فتویٰ دیا۔مگر وزیر نے کہا کہ یہ انگریزی رعایا ہے۔اسے ہم قتل نہیں کر سکتے۔آخر حکومت نے اپنی حفاظت میں اسے ہندوستان پہنچا دیا۔اب وہ کئی ماہ کے بعد واپس آیا ہے۔اس کی ہمت کا یہ حال ہے کہ میں نے اسے کہا کہ تم نے غلطی کی اور بہت ممالک تھے جہاں تم جاسکتے تھے اور۔