خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 143
143 تحریک جدید کے دیگر مطالبات پر جماعت کا رد عمل جماعت احمدیہ نے تحریک جدید کے مالی جہاد میں پُر جوش حصہ لینے کے علاوہ دوسرے مطالبات پر بھی شاندار طور پر لبیک کہا جس کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے۔مطالبہ سادہ زندگی کے تحت جماعت کے مخلصین نے کھانے ، لباس ، علاج اور سینما وغیرہ کے بارہ میں اپنے پیارے امام کی ہدایات کی نہایت سختی سے پابندی کی۔کھانے کے تکلفات یکسر ختم کر دیے۔بعض نے چندے زیادہ لکھوا دئیے اور دو دو تین تین سال تک کوئی کپڑے نہیں بنوائے۔اکثر نوجوانوں نے سینما، تھیڑ ، سرکس وغیرہ دیکھنا چھوڑ دیا اور بعض جو کثرت سے اس کے عادی تھے اس سے نفرت کرنے لگے۔الغرض حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی آواز نے جماعت میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا جو دوسرے لوگوں کی نگاہ میں ایک غیر معمولی چیز تھی۔چنانچہ اخبار رنگین (امرتسر) کے سکھ ایڈیٹر ارجن سنگھ عاجز نے لکھا کہ: احمدیوں کا خلیفہ ان کی گھریلو زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور وقتا فوقتا ایسے احکام صادر کرتا رہتا ہے جن پر عمل کرنے سے خوشی کی زندگی بسر ہو سکے۔ترک خواہشات کی سپرٹ ان کے خلیفہ نے جس تدبر اور دانائی سے ان کے اندر پھونک دی ہے وہ قابل صد ہزار تحسین و آفرین ہے اور ہندوستان میں آج صرف ایک خلیفہ قادیان ہی ہے جو سر بلند کر کے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے لاکھوں مرید ایسے موجود ہیں جو اس کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہیں اور احمدی نہایت فخر سے کہتے ہیں کہ ان کا خلیفہ ایک نہایت معاملہ فہم ، دور اندیش اور ہمدرد بزرگ ہے جس نے کم از کم ان کی دنیاوی زندگی کو بہشتی زندگی بنا دیا ہے اور اس کے عالی شان مشوروں پر عمل کرنے سے دنیا کی زندگی عزت و آبرو سے کٹ سکتی ہے۔(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 8 ص 42,41) ستمبر 1936 ء تک تیرہ سو احباب نے اپنی چھٹیاں ملک میں رضا کارانہ تبلیغ کے لئے وقف کیں اور شمالی اور وسطی ہند کے علاوہ جنوبی علاقہ مثلاً میسور، مدراس، کولمبو اور بمبئی میں بھی تبلیغی وفود نے کام کیا۔ایسے اصحاب کو حضرت خلیفہ المسیح کی طرف سے تحریرات خوشنودی عطا کی جاتی تھیں۔مولوی فاضل بی اے، ایف اے اور انٹرنس پاس قریباً دوسونو جوانوں نے اپنے آپ کو سہ سالہ