خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 142
142 لینے والے احباب پانچ ہزار کے لگ بھگ تھے۔ان لوگوں کی قربانیاں احیائے دین کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔اس لئے حضور نے فرمایا: تحریک جدید کا جہاد کبیر وہ شان رکھتا ہے کہ اس میں اخلاص سے حصہ لینے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے قرب کا مقام عطا فرمائے گا کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کے احیاء کے لئے اور اس کے جھنڈے کے بلند رکھنے کے لئے اس میں حصہ لیا اور یہی وہ پانچ ہزاری فوج ہے جو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے پورا کرنے میں حصہ پارہی ہے۔ان پانچ ہزار احباب کے نام اور قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے جون 1959ء میں پانچ ہزاری مجاہدین کی مکمل فہرست شائع کی گئی۔دفاتر کا قیام تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا۔پہلے دس سال تک جو اس کے چندہ دہندگان میں شامل ہوئے وہ دفتر اول میں شمار کئے گئے۔1944ء میں دفتر دوم جاری ہوا اور نئے چندہ دینے والے اس دفتر میں شامل ہوتے رہے۔اپریل 1966ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے دفتر سوم کا اجراء فرمایا اور ساتھ ہی فرمایا کہ اس کا اجراء یکم نومبر 1965ء سے شمار کیا جائے تا کہ یہ دفتر بھی حضرت مصلح موعودؓ کے عہد کی طرف منسوب ہو۔25 اکتوبر 1985ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے دفتر چہارم کا اور حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 5 نومبر 2004ء کو دفتر پنجم کے اجراء کا اعلان کیا۔2004ءکودفتر خلفاءسلسلہ نے مختلف وقتوں میں ان دفاتر کی ذمہ داری ذیلی تنظیموں پر ڈالی۔چنانچہ دفتر اول اور چہارم مجلس انصارالله دفتر دومجلس خدام الاحمدیہ اور دفتر وم لجنہ اماءاللہ کے سپرد ہے۔(الفضل 11 نومبر 1993ء) حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے خطبہ جمعہ 5 نومبر 1982ء میں تحریک فرمائی کہ دفتر اول اور دفتر دوم کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے اور ان کی اولادیں ان کی طرف سے چندہ ادا کرتی رہیں۔خطبات طاہر جلد اول ص 6-255 سید نا حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ نے بھی کئی دفع اس امر کی یاد دہانی کروائی اور آپ نے 3 نومبر 2006ء کو تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے یہ خوشخبری دی کہ دفتر اول کے تمام کھاتے جاری ہو چکے ہیں۔(الفضل 12 دسمبر 2006ء)