خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 136
136 وصیت کو وسیع کیا جائے غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آتی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے۔ہر وہ شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جو نظامِ وصیت کو وسیع کرتا ہے وہ نظام نو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے۔انوار العلوم جلد 16 صفحه 599 ، 600 ) تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا اور اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیروں کے تابع اس سے قبل شدید مخالفانہ ماحول پیدا ہوا تا کہ جماعت کے سینوں میں منہ زور جذ بے ابلنے لگیں جن کا رخ تحریک جدید کی لگام کے ذریعہ خدمت دین کی طرف موڑ دیا جائے اور جماعت کے جسم وروح کا ذرہ ذرہ شجر احمدیت کی آبیاری میں کھاد کا کام دے۔یہ وہ زمانہ تھا جب تمام مذہبی جماعتیں مجلس احرار کی شکل میں اور تمام انتظامی طاقتیں انگریزی حکومت کی شکل میں اکٹھے ہو کر جماعت کے خلاف صف آراء ہو چکی تھیں اور چاروں سمتوں اورا و پر اور نیچے سے جماعت کو پیس دینے کا ارادہ کر چکی تھیں اور جماعت باز کے پنجوں میں ایک کمزور چڑیا کی طرح پھڑ پھڑا رہی تھی۔ان لرزہ خیز حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودؓ کے دل پر یہ تحریک نازل فرمائی جس نے دیکھتے دیکھتے طوفانوں کا رخ پھیر دیا اور کشتی احمدیت بھنور سے نکل کرنئی فتوحات کے سفر پر روانہ ہوگئی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلیٰ انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں جو خاص کا میابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں ان میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کر کے مجھے حاصل ہوئی اور یقیناً میں سمجھتا ہوں جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیا درکھنے کی توفیق (انوار العلوم جلد 14 ص 116)