خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 125 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 125

125 لٹریچر مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر کوئی کہے نہیں تو اس سے پوچھا جائے کیوں نہیں؟ یہ پوچھنے پر بعض لوگ لڑیں گے اور یہی ہماری غرض ہے کہ وہ لڑیں یا سوچیں۔جب کسی سے پوچھا جائے گا کیوں نہیں پڑھتے تو وہ کہے گا کہ یہ پوچھنے سے تمہارا کیا مطلب ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ پوچھنا ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی آواز ہے جو آپ تک پہنچائی جارہی ہے۔اس پر وہ یا تو کہے گا سنا لو اور یا پھر کہے گا کہ میں نہیں مانتا اور جس دن کوئی کہے گا کہ جاؤ میں نہیں مانتا اسی دن سے وہ خدا تعالیٰ کا مد مقابل بن جائے گا اور ہمارے رستہ سے اُٹھا لیا جائے گا جن لوگوں تک یہ آواز ہم پہنچائیں گے اُن کے لئے دو ہی صورتیں ہوں گی یا تو ہماری جو رحمت کے فرشتے ہیں سنیں اور یا پھر ہماری طرف سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے عذاب کے فرشتوں کی تلوار کے آگے کھڑے ہو جائیں۔مگر اب تو یہ صورت ہے کہ نہ ہمارے سامنے ہیں اور نہ ملائکہ عذاب کی تلوار کے سامنے بلکہ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔نہ تو وہ خدا تعالیٰ کی تلوار کے سامنے آتے ہیں کہ وہ انہیں فنا کر دے اور نہ اس کی محبت کی آواز کو سنتے ہیں کہ ہدایت پا جائیں۔اب تو ایک ایسی چیز ہیں جو اپنے مقام پر کھڑی ہے اور وہاں سے ہلتی نہیں۔لیکن نئی تعمیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُسے وہاں سے ہلایا جائے۔یا تو وہ ہماری طرف آئے اور یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے“۔الفضل 22 اکتوبر 1942 ء ص 4,5) اس ضمن میں حضور نے اپنے ایک دوسرے خطبہ میں ان اخبارات کو اور ان کے متعلقہ محکموں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے پرچوں کو زیادہ سے زیادہ مکمل اور دلچسپ بنانے کی کوشش کریں اور مواد اس طرح مرتب کریں کہ اسلام اور احمدیت کا صحیح نقشہ پڑنے والوں کے سامنے آجائے اور ساتھ ہی اہل قلم اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔وہ مختصر عبارتوں میں ایسے مضامین لکھیں جن سے یہ پرچے زیادہ دلچسپ اور زیادہ مفید بن سکیں اور لوگوں کی توجہ تبلیغ کی طرف کھینچ سکے۔خالی دلچسپی بھی کوئی چیز نہیں۔یہ تو بھانڈ پن ہی ہے۔بلکہ دلچسپی کا مطلب یہ ہے کہ دین کے معاملات کو ایسی عمدگی اور خوبصورتی سے پیش کیا جائے کہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں۔قرآن کریم سے زیادہ دلچسپ کتاب اور کوئی نہیں ہو سکتی مگر اس میں کھیل تماشے کی کوئی بات نہیں۔پھر بھی کا فریہ کہتے تھے کہ کانوں میں انگلیاں ڈال لو۔خوب شور مچاؤ تا یہ کلام کا نوں میں نہ پڑے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر اور قرآن کریم کو سحر کہتے تھے۔یہ دلچسپی کی ہی بات ہے