خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 126 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 126

126 اور اس کا مطلب یہی ہے کہ جو سنے اس پر ضرور اثر ہوتا ہے بشرطیکہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔(الفضل 5 نومبر 1942 ء ) حضرت خلیفة المسیح اثانی رضی اللہ عنہ کی دوسری تحریکوں کی طرح یہ تحریک بھی کامیاب رہی اور مخلصین جماعت نے چند ہفتوں کے اندراندر الفضل اور سن رائز کے پرچوں کے لئے مطلوبہ رقم پیش کر دی۔اسی طرح کئی احمدی خطوط کے ذریعے تبلیغ کرنے کی مہم میں شامل ہو گئے۔اس تحریک کے بہت عمدہ اور خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔( الفضل 2 دسمبر 1942ء) ہندوستان میں سات مراکز بنانے کی تحریک حضرت سید نالمصلح الموعود نے ملک میں تبلیغ کو وسیع پیمانے پر شروع کرنے کے لئے 21 جولائی 1944ء کو تحریک فرمائی کہ ہندوستان کے سات مقامات یعنی پیشاور ، کراچی، مدراس، بمبئی ، کلکتہ، دہلی اور لاہور میں تبلیغی مراکز قائم کئے جائیں۔اس تحریک کے مطابق چند ماہ کے اندر اندر بمبئی ، کلکتہ اور کراچی میں با قاعدہ مشن کھول دیئے گئے۔(الفضل4 اگست 1944ء ص1) پھر حضور نے ان مقامات پر قیام مساجد کی تحریک فرمائی۔کراچی میں عرصہ ہوا کہ حضور پہلے ہی چار کنال زمین خرید چکے تھے۔اس تحریک کے مطابق پہلے ہی سال دہلی کی جماعت نے تمہیں ہزار روپے کے وعدے پیش کئے۔(الفضل یکم جنوری 1945ء) نکل کھڑے ہوں سید نام مصلح الموعودؓ نے یکم مئی 1944ء کو جماعت کے سامنے تحریک فرمائی کہ دنیا میں تبلیغ اسلام کے لئے ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔یہ ضرورت صرف اس طرح پوری ہوسکتی ہے کہ احمدی بدھ بھکشوؤں اور حضرت مسیح کے حواریوں کی طرح قریہ قریہ بستی بستی میں نکل کھڑے ہوں۔چنانچہ فرمایا :۔دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے میں نے بہت سوچا ہے مگر بڑے غور وفکر کے بعد سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا