خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 111 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 111

111 منٹ کے لئے بھی دریغ نہ ہوگا۔مگر کوئی غیرت مند آدمی پسند نہ کرے گا کہ اس کا مکان باقی رہے اور قوم کی عمارتیں بک جائیں۔اس کی زمین تو باقی رہے لیکن اسلام کی زمین فروخت ہو جائے۔۔۔اگر صرف آپ لوگ جنہوں نے آج اقرار کیا ہے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو میں سمجھوں گا اسلام کی فتح کا زمانہ آگیا اور میں دشمن پر فتح پا گیا۔رپورٹ مجلس مشاورت 1927 ء ص 186,183) تبلیغ کے لئے نئے عزم کی تحریک 1927ء میں مشہور ہندو لیڈر پنڈت شردھانند صاحب کے قتل نے ہندو قوم میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زبر دست آگ لگادی تھی اور پشاور سے لے کر کلکتہ تک کے تمام ہندوؤں نے عزم کر لیا کہ وہ پنڈت شردھانند کا کام بہر کیف جاری کھیں گے اور اپنی جان اور اپنا مال تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اس غرض کے لئے ایک شردھانند میموریل فنڈ قائم کیا گیا اور ہندو شدھی سمجھانے اپنی سرگرمیاں اور زیادہ تیز کر دیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت کے سامنے یہ تشویشناک صورت رکھتے ہوئے بتایا کہ اب دین پر جو حملہ ہو گا۔اس کا دفاع ہمیں کرنا ہو گا۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔”ہندوستان میں سپین کی طرح کا مشکل وقت اسلام کے لئے آیا ہوا ہے۔یہ جو ہندوؤں کی طرف سے چیلنج دیا گیا ہے اگر احمدی جماعت اس کے جواب کے لئے میدان میں نکل کھڑی ہو تو یقیناً دین کی فتح ہے پس میں احمدی دوستوں سے کہتا ہوں۔اگر وہ اس جنگ کے لئے تیار ہوں تو۔۔وہ ایک جان ہو کر مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور ایسی بلند آواز اٹھائیں کہ ہر ہندو کے کان میں وہ پہنچے اور کوئی شخص اس آواز کو دبا نہ سکے۔دیوانہ وار تبلیغ کرنے کا ارشاد ( الفضل 6 مئی 1927ء) 22 نومبر 1929ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت سے بذریعہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا کہ دیوانہ وار تبلیغ احمدیت میں لگ جاؤ ورنہ آئندہ نسلیں بھی کمزور ہو جائیں گی۔(الفضل 29 نومبر 1929 ء ص 6)