خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 95 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 95

95 کر کے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کریں اور اتنی کثرت سے کریں اگر دس نو جوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سونو جوان پیش کرے۔15 اکتوبر کے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے آیت قرآنی ولتكن منكم امة يدعون الى ر ( آل عمران : 105) کی روشنی میں واضح کیا کہ دینی جماعتیں وقف کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔چنانچہ حضور نے صحابہ النبی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: بغیر وقف کے دین کا کام کرنا مشکل ہے جس جماعت میں وقف کا سلسلہ نہ ہو وہ اپنا کام کبھی مستقل طور پر جاری نہیں رکھ سکتی ہم نے تو وقف کی ایک شکل بنادی ہے ورنہ زندگی وقف کرنے والے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔حضور نے خطبہ کے آخر میں تحریک فرمائی کہ:۔تم ضرورت وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نو جوانوں کو وقف کرو اور یہ وقف اتنی کثرت سے ہونا چاہئے کہ اگر دس نو جوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سونو جوان پیش کرے“۔الفضل 20 /اکتوبر 1954ءص6,4) حضرت مصلح موعود کی اس تحریک پر کئی مخلص خاندانوں نے لبیک کہا اور متعدد احمدی نوجوانوں نے اپنی جانیں اپنے مقدس امام کے حضور پیش کر دیں۔صدر انجمن احمدیہ کے لئے تحریک واقفین سیدنا حضرت مصلح۔مصلح موعودؓ نے 1955ء کے شروع میں تحریک فرمائی کہ مخلص احباب تحریک جدید کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے لئے بھی اپنی زندگیاں وقف کریں۔فرمایا: احباب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ اب تک صرف تحریک جدید کے لئے واقفین لئے جاتے تھے۔اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ صدرانجمن کے لئے بھی واقفین زندگی کی تحریک کی جائے۔پس اس بارہ میں میں اعلان کرتا ہوں کہ مخلص احباب اپنے آپ کو سلسلہ کی خدمت کے لئے پیش کریں۔عام راہنمائی کے لئے یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل قسم کے احباب کارآمد ہو سکیں گے:۔اول: ایم اے ایل ایل بی۔ڈاکٹر