خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 94 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 94

94 وہ نوجوان جو فوج سے فارغ ہوں گے اور وہ نوجوان جو نئے جوان ہوئے ہیں اور ابھی کوئی کام شروع نہیں کیا۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی وقف کریں۔ایسے رنگ میں نہیں کہ ہمیں دین کے لئے جہاں چاہیں بھیج دیں چلے جائیں گے بلکہ ایسے رنگ میں کہ ہمیں جہاں بھجوایا جائے ہم وہاں چلے جائیں گے اور وہاں سلسلہ کی ہدایت کے ماتحت تجارت کریں گے۔اس رنگ میں ہمارے مبلغ سارے ہندوستان میں پھیل جائیں گے۔وہ تجارت بھی کریں گے اور تبلیغ بھی۔الفضل 11 اکتوبر 1945 ء ص 6 ) وقف تجارت کے تحت واقفین تجارت کو مختلف مقامات پر متعین کیا گیا جہاں سے وہ دفتر کی ہدایات کے ماتحت تجارت کرتے اور اپنی باقاعدہ رپورٹیں بھجواتے تھے۔اس وقف کے تحت سرمایہ واقفین خود الفضل 7 نومبر 1945ء ص 4 کالم 4) لگاتے تھے۔طلباء کو وقف کی تحریک قیام پاکستان کے ابتدائی چند سالوں میں جہاں انڈونیشیا، سیلون اور افریقہ وغیرہ ممالک کے احمدی جوانوں میں وقف زندگی کی طرف رجحان پہلے سے بڑھ گیا وہاں پاکستان میں اس کی طرف بتدریج توجہ کم ہو گئی اور آہستہ آہستہ اس کا احساس مثنے لگا حتی کہ 1954 ء میں صرف ایک پاکستانی احمدی نو جوان مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوا۔جس کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے سابق ہیڈ ماسٹر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم سال بھر کوشش کرتے رہتے تھے اور حضرت سیدنا اصلح لمصل الموعود کی خدمت بابرکت میں یہ اطلاع بھی پہنچاتے رہتے تھے کہ میں نے اتنے طلباء سے وقف کا وعدہ لیا ہے مگر ان کے بعد یہ التزام و اہتمام نہ رہا۔نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں صرف ایک احمدی نوجوان کو وقف کرنے کی توفیق مل سکی۔اس تشویش انگیز صورتحال کا سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے فوری نوٹس لیا اور 8 اور 15 /اکتوبر 1954 ء کے خطبات وقف زندگی کی تحریک کے لئے وقف کر دیئے۔جن میں جماعت کے سامنے اصل حقائق رکھے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور تعلیم الاسلام کالج کے احمدی پروفیسروں کو ہدایت فرمائی کہ وہ ہمیشہ ہی طلباء کو دین کی خاطر زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کرتے رہیں۔نیز جماعت کو تلقین فرمائی کہ وہ ضرورت وقت کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس